آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 95 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 95

روحانی خزائن جلده ۹۵ آئینہ کمالات اسلام ور حیم کی نسبت یہ تجویز کرنا جائز ہے کہ وہ انسان کی تباہی کو بہ نسبت اُس کے ہدایت پانے (۹۵ کے زیادہ چاہتا ہے نعوذ باللہ ہرگز نہیں نابینا آدمی قرآن کریم کی تعلیم کو سمجھتا نہیں اس لئے اپنی نادانی کا الزام اس پر لگا دیتا ہے۔ یہ تمام بلائیں جن سے نکلنا کسی طور سے ان علماء کے لئے ممکن نہیں اسی وجہ سے ان کو پیش آگئیں کہ انہوں نے یہ خیال کیا کہ ملا ایک اپنے اصلی وجود کے ساتھ زمین پر نازل ہوتے ہیں اور پھر یہ بھی ضروری عقیدہ تھا کہ وہ بلا توقف آسمان پر چڑھ بھی جاتے ہیں۔ ان دونوں غلط عقیدوں کے لحاظ سے یہ لوگ اس شکنجہ میں آگئے کہ اپنے لئے یہ تیسرا عقیدہ بھی تراش لیا کہ بئس القرین کے مقابل پر کوئی ایسا نعم القرین انسان کو نہیں دیا گیا جو ہر وقت اس کے ساتھ ہی رہے ۔ پس اس عقیدہ کے تراشنے سے قرآنی تعلیم پر اُنہوں نے سخت تہمت لگائی اور بد اندیش مخالفوں کو سو در حقیقت یہ دو اعتراض ہیں جو ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں اور بوجہ ان کے باہمی تعلقات کے ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ ان کے جوابات ایک ہی جگہ بیان کئے جائیں۔ سواؤل قسم کے بارے میں خوب یا درکھنا چاہیئے کہ اللہ جل شانہ کی قسموں کا انسانوں کی قسموں پر قیاس کر لینا قیاس مع الفارق ہے خدا تعالیٰ نے جو انسان کو غیر اللہ کی قسم کھانے سے منع کیا ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ انسان جب قسم کھاتا ہے تو اس کا مدعا یہ ہوتا ہے کہ جس چیز کی قسم کھائی ہے اس کو ایک ایسے گواہ رویت کا قائم مقام ٹھہرا وے کہ جو اپنے ذاتی علم سے اس کے بیان کی تصدیق یا تکذیب کر سکتا ہے کیونکہ اگر سوچ کر دیکھو تو قسم کا اصل مفہوم شہادت ہی ہے ۔ جب انسان معمولی شاہدوں کے پیش کرنے سے عاجز آ جاتا ہے تو پھر قسم کا محتاج ہوتا ہے تا اُس سے وہ فائدہ اٹھا دے جو ایک شاہد رویت کی شہادت سے اُٹھانا چاہیئے لیکن یہ تجویز کرنا یا اعتقاد رکھنا کہ بجز خدا تعالی کے اور بھی حاضر ناظر ہے اور تصدیق یا تکذیب یا سزا د ہی یا کسی اور امر پر قادر ہے صریح کلمہ کفر ہے اس لئے خدا تعالی کی بطالوی اور دہلوی نے اول یہ غلطی کی کہ ملا یکہ ٹھہرالیا پھر اس غلطی کی شامت سے یہ بھی انہیں مانا پڑا کہ روح القدس ہمیشہ ملہموں کے ساتھ نہیں رہتا۔