آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 90 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 90

بطالوی اور دہلوی کا یہی مذہب ہے کہ بھی آسمان فرشتوں سے خالی بھی رہ جاتے ہیں بالخصوص لیلتہ القدر کی رات میں تو آسمان شیخ بطالوی اور دہلوی کا یہی مذہب ہے کہ انسان کے لئے دائمی قرین صرف شیطان کو مقرر کیا گیا ہے اور ایسا ہوتا ہے کہ جیسے اُجڑا ہوا گھر کیونکہ تمام فرشتے اور روح القدس زمین پر اتر آتے ہیں اور صبح تک زمین پر ہی رہتے ہیں۔ روح القدس کی داگی صحبت سے اور لوگ تو کیا چیز نعوذباللہ انبیاء بھی بے بہرہ ہیں بجز حضرت عیسی کے۔ روحانی خزائن جلده آئینہ کمالات اسلام کہ حال کے اکثر ملا جیسے شیخ بطالوی محمد حسین اور شیخ دہلوی نذیر حسین اس اعتقاد کے مخالف ہیں اور اس بات کے وہ ہر گز قائل نہیں ہیں کہ ہر یک انسان کو دو قرین دیے گئے ہیں ایک داعی الی الخیر جو روح القدس ہے اور ایک داعی الی الشر جو شیطان ہے بلکہ اُن کا تو یہ قول ہے کہ صرف ایک ہی قرین دیا گیا ہے جو داعی الی الشر ہے اور انسان کی ایمانی بیخ کنی کے لئے ہر وقت اُس کے ساتھ رہتا ہے اور خدا تعالی کو یہ بات بہت پیاری معلوم ہوئی کہ انسان کا شیطان کو دن رات کا مصاحب بنا کر اور انسان کے خون اور رگ و ریشہ میں شیطان کو دخل بخش کر بہت جلد انسان کو تباہی میں ڈال دیوے اور جبرائیل جس کا دوسرا نام رُوح القدس بھی ہے ہرگز عام انسانوں کے لئے بلکہ اولیاء کے لئے بھی داعی الی الخیر مقرر نہیں کیا ۔ وہ سب لوگ صرف شیطان کے پنجہ میں چھوڑے گئے ہاں انبیاء پر روح القدس نازل ہوتا ہے مگر وہ بھی صرف ایک دم کہ ایک قدم کی جگہ بھی آسمان پر خالی نظر آوے مگر افسوس کہ بطالوی صاحب اور دہلوی شیخ صاحب بھی اب تک اس زمانہ میں بھی کہ علوم حسیہ طبعیہ کا فروغ ہے یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ آسمان کا صرف باندازہ ایک قدم خالی رہنا کیا مشکل بات ہے بعض اوقات تو بڑے بڑے فرشتوں کے نزول سے ہزار ہا کوس تک آسمان خالی ویران سنسان پڑا رہ جاتا ہے جس میں ایک فرشتہ بھی نہیں ہوتا کیونکہ جب چھ تو موتیوں کے پروں والا فرشتہ جس کا طول مشرق سے مغرب تک ہے یعنی جبرائیل زمین پر اپنا سارا وجود لے کر اُتر آیا تو پھر سوچنا چاہیے کہ ایسے جیم فرشتہ کے اترنے سے ہزار ہا کوس تک آسمان خالی رہ جائے گا یا اس سے کم ہو گا شیخ الکل کہلانا اور احادیث نبویہ کونہ سمجھا جائے افسوس اور جائے شرم ۔ الغرض جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں یہ بات نہایت احتیاط سے