آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 89
روحانی خزائن جلده ۸۹ آئینہ کمالات اسلام بلکہ نہایت صفائی سے نظر آ جاتا ہے افسوس ان لوگوں کی حالت پر جو فلسفہ باطلہ (۴۸۹ کی ظلمت سے متاثر ہو کر ملایک اور شیاطین کے وجود سے انکار کر بیٹھے ہیں اور بینات اور نصوص صریحہ قرآن کریم سے انکار کر دیا اور نادانی سے بھرے ہوئے الحاد کے گڑھے میں گر پڑے ۔ اور اس جگہ واضح رہے کہ یہ مسئلہ ان مسائل میں سے ہے جن کے اثبات کے لئے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے استنباط حقائق میں اس عاجز کو متفرد کیا ہے ۔ فالحمد لله علی ذالک ۔ اور اگر کوئی آریہ یا عیسائی اس جگہ یہ اعتراض کرے کے یہ معنے ہر گز نہیں ہیں کہ کوئی فرشتہ آسمان سے اپنا مقام اور مفر چھوڑ کر زمین پر نازل ہو جاتا ہے ایسے معنے تو صریح نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے مخالف ہیں چنانچہ فتح البیان میں ابن جریر سے بروایت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث مروی ہے ۔ قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما في السماء موضع قدم الا عليه ملک ساجد او قائم و ذالك قول الملائكة و ما منا الا له مقام معلوم یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آسمان پر ایک قدم کی بھی ایسی جگہ خالی نہیں جس میں کوئی فرشتہ ساجد یا قائم نہ ہو اور یہی معنے اس آیت کے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک شخص ایک مقام معلوم یعنے ثابت شدہ رکھتا ہے جس سے ایک قدم اوپر یا نیچے نہیں آ سکتا ۔ اب دیکھو اس حدیث سے صاف طور پر ثابت ہو گیا کہ فرشتے اپنے مقامات کو نہیں چھوڑتے اور کبھی ایسا اتفاق نہیں ہوتا احادیث صحیحہ نبویہ سے ثابت ہے کہ فرشتے آسمان سے علیحدہ نہیں ہوتے کیونکہ علیحدہ ہونا اس بات کو مستلزم ہے کہ آسمان کی وہ جگہ جو ان کے وجود سے بھری ہوئی تھی خالی ہو جائے اور یہ امر نا شدنی ہے۔ ملا یک اور شیاطین کے وجود کا ثبوت ان نادر تحقیقاتوں میں سے جن کے ساتھ بذریعہ افاضات قرآنیہ یہ عاجز متفرد اور خاص کیا گیا ہے