آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 83 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 83

روحانی خزائن جلده ۸۳ آئینہ کمالات اسلام الشر دونوں مقـ کر سکتا ہے بجز اس نادان اور اندھے کے کہ جو صرف حیوانات کی طرح زندگی بسر کرتا ہے اور (۸۳ پاک تعلیم کے نور سے کچھ بھی حصہ نہیں رکھتا بلکہ سچ اور واقعی امر تو یہ ہے کہ قرآن کریم کی یہ تعلیم بھی منجملہ معجزات کے ایک معجزہ ہے کیونکہ جس خوبی اور اعتدال اور حکیمانہ شان سے اس تعلیم نے اس عقدہ کو حل کر دیا کہ کیوں انسان میں نہایت قوی جذبات خیر یا شر کے پائے جاتے ہیں یہاں تک کہ عالم رویا میں بھی ان کے انوار یا ظلمتیں صاف اور صریح طور پر محسوس ہوتی ہیں۔ اس طرز محکم اور حقانی سے کسی اور کتاب نے بیان نہیں کیا اور زیادہ تر اعجاز کی صورت اس سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ بجز اس طریق کے ماننے کے اور کوئی بھی طریق بن نہیں پڑتا۔ اور اس قدر اعتراض وارد ہوتے ہیں کہ ہرگز ممکن نہیں کہ ان سے مخلصی حاصل ہو کیونکہ خدا تعالیٰ کا عام قانون قدرت ہم پر ثابت کر رہا ہے کہ جس قدر ہمارے نفوس لمہ ملک اور لمہ ابلیس برابر طور پر انسان کو دئیے گئے ہیں یعنی ایک داعی خیر اور ایک داعی شرتا انسان اس ابتلا میں پڑ کر مستحق ثواب یا عقاب کا ٹھہر سکے کیونکہ اگر اس کیلئے ایک ہی طور کے اسباب پیدا کئے جاتے مثلاً اگر اس کے بیرونی اور اندرونی اسباب جذبات فقط نیکی کی طرف ہی اس کو کھینچتے یا اس کی فطرت ہی ایسی واقعہ ہوتی کہ وہ بجز نیکی کے کاموں کے اور کچھ کر ہی نہ سکتا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ نیک کاموں کے کرنے سے اس کو کوئی مرتبہ قرب کا مل سکے کیونکہ اس کیلئے تو تمام اسباب و جذبات نیک کام کرنے کے ہی موجود ہیں یا یہ کہ بدی کی خواہش تو ابتدا سے ہی اس کی فطرت سے مسلوب ہے تو پھر بدی سے بچنے کا اس کو ثواب کسی استحقاق سے ملے مثلاً ایک شخص ابتدا سے ہی نامرد ہے جو عورت کی کچھ خواہش نہیں رکھتا اب اگر وہ ایک مجلس میں یہ بیان کرے کہ میں فلاں وقت جو ان عورتوں کے ایک گروہ میں رہا جو خوبصورت بھی تھیں مگر میں ایسا پر ہیز گار ہوں کہ میں نے ان کو شہوت کی نظر سے ایک دفعہ بھی نہیں دیکھا اور خدا تعالیٰ سے ڈرتا رہا تو کچھ شک نہیں کہ سب لوگ اس کے اس بیان پر