آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 80
روحانی خزائن جلده ۸۰ آئینہ کمالات اسلام ۸۰ گرو اور اسی جگہ عکرمہ سے یہ حدیث لکھی ہے کہ ملائکہ ہر یک شر سے بچانے کیلئے انسان کے ساتھ رہتے ہیں اور جب تقدیر مبرم نازل ہو تو الگ ہو جاتے ہیں۔ اور پھر مجاہد سے نقل کیا ہے کہ کوئی ایسا انسان نہیں جس کی حفاظت کیلئے دائمی طور پر ایک فرشتہ مقرر نہ ہو ۔ پھر ایک اور حدیث عثمان بن عفان سے لکھی ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ بین فرشتے مختلف خدمات کے بجالانے کیلئے انسان کے ساتھ رہتے ہیں اور دن کو ابلیس اور رات کو ابلیس کے بچے ضرر رسانی کی غرض سے ہر دم گھات میں لگے رہتے ہیں اور پھر امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے یہ حدیث مندرجہ ذیل لکھی ہے۔ احادیث نبویہ سے اس بات کا ثبوت کہ ملائک آمر خیر ور شیاطین آمر شر ضرور انسانوں کے ساتھ رہتے ہے حدثنا اسود بن عامر حدثنا سفيان حدثنى منصور عن سالم بن ابي الجعد عن ابيه عن عبد الله قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما منكم من احد الا وقد وكل به قرينه من الجن وقرينه من الملائكة قالوا و ایاک یا رسول الله قال و ایاى ولكن الله اعانني عليه فلا يأمرنى الا بخير انفرد باخراجه مسلم صفحه ۲۴۴ کیونکہ ادنیٰ سے ادنی آدمی کو بھی نیکی کا خیال روح القدس سے پیدا ہوتا ہے۔ کبھی فاسق اور فاجر اور بد کار بھی کچی خواب دیکھ لیتا ہے اور یہ سب روح القدس کا اثر ہوتا ہے جیسا که قرآن کریم اور احادیث صحیحہ نبویہ سے ثابت ہے مگر وہ تعلق عظیم جو مقدسوں اور مقربوں کے ساتھ ہے اس کے مقابل پر یہ کچھ چیز نہیں گویا کالعدم ہے۔ اس بات کا جواب کہ اگر روح القدس ہر یک انسان کے ساتھ رہتا ہے تو پھر بنی آدم سے بُرے کام کیوں ہوتے ہیں۔ بقیه حاشیه از انجملہ ایک یہ سوال ہے کہ جس حالت میں روح القدس انسان کو بدیوں سے روکنے کیلئے مقرر ہے تو پھر اس سے گناہ کیوں سرزد ہوتا ہے اور انسان کفر اور فسق اور فجور میں کیوں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس کا یہ جواب ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کیلئے ابتلا کے طور پر دو روحانی وامی مقرر کر رکھے ہیں ۔ ایک داعی خیر جس کا نام روح القدس ہے اور ایک داعی شر جس کا نام ابلیس اور