آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 77
روحانی خزائن جلده۔ LL آئینہ کمالات اسلام النَّجْمُ الثَّاقِبُ اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَمَّا عَلَيْهَا حَافِظ ۔ یہ آخری آیت یعنی ان كُلُّ نَفْس ) لَمَّا عَلَيْهَا حَافِظ جس کے یہ معنی ہیں کہ ہر ایک نفس پر ایک فرشتہ نگہبان ہے یہ صاف دلالت کر رہی ہے کہ جیسا کہ انسان کے ظاہر وجود کیلئے فرشتہ مقرر ہے جو اس سے جدا نہیں ہوتا ویسا ہی اس کے باطن کی حفاظت کیلئے بھی مقرر ہے جو باطن کو شیطان سے روکتا ہے اور گمراہی کی ظلمت سے بچاتا ہے اور وہ رُوح القدس ہے جو خدا تعالیٰ کے خاص بندوں پر شیطان کا تسلط ہونے نہیں دیتا اور اسی کی طرف یہ آیت بھی اشارہ کرتی ہے کہ إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطن سے اب دیکھو کہ یہ آیت کیسی صریح طور پر بتلا رہی ہے کہ خدا تعالیٰ کا فرشتہ انسان کی حفاظت کیلئے ہمیشہ اور ہر دم اس کے ساتھ رہتا ہے اور ایک دم بھی اس سے جدا نہیں ہوتا۔ کیا اس جگہ یہ خیال آ سکتا ہے کہ انسان کے ظاہر کی نگہبانی کیلئے تو دائمی طور پر فرشتہ مقرر ہے لیکن اس کی باطن کی جگہبانی کیلئے کوئی فرشتہ دائی طور پر خدا تعالی نے جو اس آیت کو کلی طور پر یعنی شکل کے لفظ سے مقید کر کے بیان فرمایا ہے اس سے یہ بات بخوبی ثابت ہو گئی کہ ہر ایک چیز جس پر نفس کا نام اطلاق پا سکتا ہے اس کی فرشتے حفاظت کرتے ہیں پس بموجب اس آیت کے نفوس کو اکب کی نسبت بھی یہ عقیدہ رکھنا پڑا کہ کل ستارے کیا سورج کیا چاند کیا زحل کیا مشتری ملائک کی زیر حفاظت ہیں یعنی ہریک کیلئے سورج اور چاند وغیرہ میں سے ایک ایک فرشتہ مقرر ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے اور اس کے کاموں کو احسن طور پر چلاتا ہے۔ جو اس جگہ کئی اعتراض پیدا ہوتے ہیں جن کا دفع کرنا ہمارے ذمہ ہے۔ از انجملہ ایک یہ کہ جس حالت میں روح القدس صرف ان مقربوں کو ملتا ہے کہ جو بقا اور لقا کے نوٹ۔ اس مضمون کی تائید یہ آیت بھی کرتی ہے وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْتُهَا رُجُوْمًا لِلشَّيطِيْنِ چونکہ رجم کی خدمت فرشتے کرتے ہیں نہ کہ ستارے لہذا اس سے قطعی طور پر ثابت ہوا کہ ہر ایک ستارے پر ایک فرشتہ مؤکل ہے اور چونکہ فرشتے ستاروں کے لئے بوجہ شدت تعلق جان کی طرح ہیں اس لئے آیت میں فرشتوں کا فعل ستاروں کی طرف منسوب کیا گیا۔ فتدبر ۔ منه ل الطارق : ۴-۵ الحجر : ۴۳ الملک