آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 74 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 74

روحانی خزائن جلده ۷۴ آئینہ کمالات اسلام (۷۴) یہ جواب ہے کہ آپ لوگوں کے عقیدہ سے ایسا ہی نکلتا ہے کیونکہ آپ لوگ بالتزام و اتباع آیات کلام الہی اس بات کو بھی مانتے ہیں کہ ہر یک نور اور سکینت اور اطمینان اور برکت اور استقامت اور ہریک روحانی نعمت برگزیدوں کو روح القدس سے ہی ملتی ہے اور جیسے اشرار اور کفار کیلئے دائمی طور پر شیطان کو بئس القرين قرار دیا گیا ہے تا ہر وقت وہ ان پر ظلمت پھیلاتا رہے اور اُن کے قیام اور قعود اور حرکت اور سکون اور نیند اور بیداری میں اُن کا پیچھا نہ چھوڑے ایسا ہی مقربین کے لئے دائمی طور پر روح القدس کو نعم القرین عطا کیا گیا ہے تا ہر وقت وہ اُن پر نور برسا تار ہے اور ہر دم اُن کی تائید میں لگار ہے اور کسی دم اُن سے جدا نہ ہو۔ اب ظاہر ہے کہ جب کہ بمقابل بئس القرین کے جو ہمیشہ اشد شریروں کا ملازم اور رفیق ہے مقربوں کیلئے نعم القرین کا ہر وقت رفیق اور انہیں ہونا نہایت ضروری ہے اور قرآن کریم اس کی خبر دیتا ہے تو پھر اگر اُس نعم القرین کی علیحدگی مقربوں سے تجویز کی جائے جیسا کہ ہمارے اندرونی مخالف قومی بھائی گمان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ روح القدس جبرائیل کا نام ہے کبھی تو وہ آسمان سے نازل ہوتا ہے اور مقربوں سے نہایت درجہ اتصال کر لیتا ہے یہاں تک کہ اُن کے دل میں جنس جاتا ہے اور کبھی ان کو اکیلا چھوڑ کر اُن سے جدائی اختیار کر لیتا ہے اور کروڑہا بلکہ بے شمار کوسوں کی دوری اختیار کر کے آسمان پر چڑھ جاتا ہے اور اُن مقربوں سے بالکل قطع تعلقات کر کے اپنی قرارگاہ میں جا چھپتا ہے تب وہ اُس روشنی اور اُس برکت سے بنگلی محروم رہ جاتے ہیں جو اُس کے نزول کے وقت اُن کے دل اور دماغ اور بال بال میں پیدا ہوتی ہے تو کیا اس عقیدہ سے لازم نہیں آتا کہ اس عقیدہ کا بطلان کہ روح القدس مقربوں کے ساتھ ہمیشہ نہیں رہتا بلکہ بسا اوقات ان سے اپنا مبارک تعلق قطع کر کے آسمان پر چلا جاتا ہے اور وہ خالی کے خالی رہ جاتے ہیں۔