ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 509 of 598

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 509

صفحہ ۲۲۵۔وہ قدح (شراب کا بڑا پیالہ) ٹوٹ گیا اور وہ ساقی نہ رہا صفحہ ۲۳۹۔اس فقیر کے نزدیک یہ تحقیق شدہ امر ہے کہ صحابہ اور تابعین میں بہت سے ایسے تھے جو یہ کہتے تھے نَزَلَتِ الْاٰیَۃُ فِیْ کَذَا وَ کَذَا اور ان کی غرض اس آیت کی تفسیر ماصدق ہوتی اور بعض واقعات جو اس آیت میں بالعموم شامل شدہ ہیں خواہ وہ کہانی مقدم ہو یا متاخر، اسرائیلی ہو یا جاہلی یا اسلامی تمام قیود آیت کو اکٹھا کیا گیا ہے یا بعض کو۔وَاللّٰہُ اَعْلَمُ۔اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ اجتہاد کو اس میں کوئی دخل نہیں اور متعدد قصوں کو اس جگہ گنجائش ہے اور جو اس نقطہ کو اپنے ذہن میں مستحضر رکھتا ہے وہ سبب نزول کے اختلافات کو ایک ادنیٰ توجہ سے حل کرسکتا ہے۔۔نیک وفات یافتگان کے ذکر کو ضائع نہ کر تا کہ تیرا نام بھی یادگار رہے صفحہ ۲۴۳۔قرآن کی نحو میں ایک عجیب خلل راہ پا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک جماعت نے سیبویہ کا مذہب اختیا ر کیا ہے اور جو کچھ بھی اس کے مطابق یا موافق ہے اس کی تاویل کرتے ہیں۔تاویل بعید ہو یا قریب اور میرے نزدیک یہ صحیح نہیں کہ سیاق و سباق کے اقویٰ اور اوفق ہونے کی اتباع کرنی چاہیے اور سیبویہ کا مذہب وَالْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوۃَ وَالْمُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ۔حضرت عثمان نے کہا ہے سَتُقِیْمُھَا الْعَرَبُ بِاَلْسِنَتِھَا اور تحقیق اس فقیر کے نزدیک یہ حکم یوں ہے کہ روزمرہ مشہورہ کے مخالف ہے اور یہ روزمرہ ہے اور اس اوّل کو عرب اپنے خطابات کے دوران محاورات ایسے لاتے ہیں جو گزشتہ زمانہ کے مشہور قاعدہ کے خلاف ہیں کہ اگر کبھی کبھی ’’و‘‘ کی جگہ پر ’’ی‘‘ آجائے یا تثنیہ کی جگہ پر مفرد آجائے یا مذکر کی جگہ مؤنث آجائے تو کیا عجب ہے۔پس متحقق یہ ہے کہ ترجمہ وَالْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوۃَ کو مرفوع کے معنوں میں شمار کرنا چاہیے۔وَاللّٰہُ اَعْلَمُ۔دیکھو راستہ کا فرق کہاں سے کہاں تک ہے