احمدی اور غیراحمدی میں کیا فرق ہے؟

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 535 of 597

احمدی اور غیراحمدی میں کیا فرق ہے؟ — Page 535

کسی نبی کے دعویٰ نبوت کوپرکھنے کے دلائل اور معیار ۱۹۴ ہر نبی کی سچائی تین طریقوں سے پہچانی جاتی ہے: عقل سلیم، نبیوں کی پیشگوئی اور نصرت الٰہی سے ۲۴۱ نبی کے ساتھ بھی بشریت ہے۔بعض دفعہ کسی پیشگوئی کے معنی کرنے میں نبی کا اجتہاد بھی ہو سکتا ہے ۱۹۸ خدا کی طرف سے یہ نشانی ہے کہ ہر ایک نبی سے ٹھٹھا کیا جاتا ہے ۶۷ انبیاء کی مخالفت اور ان کاردّ کیا جانا ۲۵۶ اگر کوئی نبی زندہ ہے تو وہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۴۶۸ نبوت تشریعی کا دروازہ بعد آنحضرتؐ کے بعد بالکل مسدود ہے ۳۱۱ح اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بندہیں شریعت والا نبی کوئی نہیں آ سکتا ۴۱۲ تمام سچائیاں جو خدا تک پہنچاتی ہیں اس کے اندر ہیں نہ اس کے بعد کوئی نئی سچائی آئیگی اور اس سے پہلے کوئی ایسی سچائی تھی جو اس میں موجود نہیں اس لئے اس نبوت پر تمام نبوتوں کا خاتمہ ہے ۳۱۱ انبیاء اور خدا تعالیٰ کے مامورین کی شناخت کا ذریعہ ان کے معجزات اور نشانات ہوتے ہیں ۲۹۱ بعض افراد نے باوجود امتی ہونے کے نبی کا خطاب پایا کیونکہ ایسی صورت کی نبوت نبوت محمدیہ سے الگ نہیں ۳۱۲ فنا فی الرسول کی حالت تک اتم درجہ تک پہنچنے والے افراد گویا محویت کے آئینہ میں انکا اپنا وجود نہ رہا بلکہ آنحضرتؐ کا وجود منعکس ہو گیا اور نبیوں کی طرح مکالمہ مخاطبہ نصیب ہوا ۳۱۲ میسح موعود کی نبوت ظلی طور پر ہے ۴۵ تمام انبیاء نے مسیح آخرالزمان کی پیشگوئی تواتر کے ساتھ کی ہے ۱۸۶ دو قسم کے مرسل من اللہ قتل نہیں ہوتے۔ایک جو سلسلہ کے آغاز پر آتے ہیں اور ایک جو سلسلہ کے اختتام پر آتے ہیں ۶۹،۷۰ سلسلہ کے اول و آخر مرسل کے قتل نہ ہونے میں حکمت ۷۰ نجات اسلام کا پیش کردہ طریق نجات ۳۸۹،۳۹۰ گناہوں سے نجات پانے کے تین طریق: تدبیرومجاہدہ، دعا اور صحبت صالحین ۲۳۴ اصل حقیقت اور اصل سرچشمہ نجات کا محبت ذاتی ہے جو وصال الٰہی تک پہنچاتی ہے ۳۶۴ نجات کا تمام مدار خدا تعالیٰ کی محبت ذاتیہ پر ہے اور محبت ذاتیہ اس محبت کا نام ہے جو روحوں کی فطرت میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مخلوق ہے ۳۶۳ دراصل نجات اس دائمی خوشحالی کے حصول کا نام ہے جو محض خدا تعالیٰ کی ذاتی محبت اور اس کی پوری معرفت اور اس کے پورے تعلق کے بعد حاصل ہوتی ہے ۳۵۹ نجات حقیقی کا سرچشمہ محبت ذاتی خدائے عزوجل کی ہے جو عجزونیاز اور دائمی استغفار کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی محبت کو اپنی طرف کھینچتی ہے ۳۸۰ معرفت کے بعد بڑی ضرورت نجات کے لئے محبت الٰہی ہے ۳۷۸ انسان بغیر خدا کی صفت مغفرت کے ہرگز نجات نہیں پا سکتا ۴۴۵ جب روح کی فطرت میں پرمیشر کی محبت نہیں وہ کسی طرح نجات پاہی نہیں سکتیں ۳۶۴ نجات حقیقی کے بارہ میں حضورؑ کی تحریر ۳۵۹ نزول مسیح نزول کی حقیقت ۹۳ عرب محاورہ میں نزول کا لفظ اکرام اور اعزاز کے لئے آتا ہے ۳۹ یہ فیصلہ حضرت عیسیٰ ہی کی عدالت سے ہو چکا ہے کہ دوبارہ آنے سے کیا مراد ہے آپ نے یوحنا کو ایلیا قرار دیا ۲۹۷ نصائح احباب جماعت کو نصائح اور ان سے اخلاص ووفا کی توقع ۷۴تا۸۰ میں مسلمانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ان پر فرض ہے کہ وہ سچے دل سے گورنمنٹ کی اطاعت کریں ۲۷۲