احمدی اور غیراحمدی میں کیا فرق ہے؟

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 498 of 597

احمدی اور غیراحمدی میں کیا فرق ہے؟ — Page 498

۔وہ دلبر محض باتوں سے خوش نہیں ہوتا جب تک تو موت قبول نہیں کرے گا زندگی ملنی محال ہے۔اے بدخصلت انسان تکبر اور دشمنی کو چھوڑ تا کہ تجھ پر <mark>خدا</mark>ئے ذوالجلال کا نور پڑے۔تو اتنا اونچااونچا کیوں اڑتا ہے؟ شاید کہ تو اُس بے مثل ذات کا منکر ہے؟۔دنیا کے محل کی کیا (مضبوط) بنیاد تو <mark>نے</mark> دیکھ لی کہ تجھے یہ سرائے فانی اچھی لگ<mark>نے</mark> لگی۔عقلمند اس میں دل کیوں لگائے جبکہ یکدم کسی روز اس سے باہر نکل جانا پڑے گا۔دنیا کی خاطر <mark>خدا</mark> سے قطع تعلق کر لینا بس یہی بدبختوں کی نشانی ہے۔جب کسی پر <mark>خدا</mark> کی مہربانی ہوتی ہے تو پھر اُس کا دل دنیا میں نہیں لگتا۔اُس کو تپتا ہوا صحرا پسند آتا ہے تا کہ وہاں اپ<mark>نے</mark> محبوب کے حضور میں گریہ وزاری کرے۔عارف انسان تو مر<mark>نے</mark> سے پہلے ہی مر جاتا ہے کیونکہ دنیا کی بنیاد مضبوط نہیں ہے۔خبردار ہو کہ یہ مقام فانی ہے، با<mark>خدا</mark> ہو جاکیونکہ آخر <mark>خدا</mark> ہی سے واسطہ پڑنا ہے صفحہ ۶۲۔اگر تو خود ہی مہلک زہر کھا لے تو میں کیونکر خیال کروں کہ تو عقل مند ہے۔دیکھ کہ اُس پاک انسان عبداللطیف <mark>نے</mark> کس طرح سے <mark>خدا</mark> کے لئے اپ<mark>نے</mark> تئیں فنا کر دیا۔اُس <mark>نے</mark> وفاداری کے ساتھ اپنی جان اپ<mark>نے</mark> محبوب کو دے دی اور اب تک وہ پتھروں کے نیچے دبا پڑا ہے۔راہ صدق ووفا کا یہی طور وطریق ہے اور یہی مردانِ <mark>خدا</mark> کا آخری درجہ ہے۔اُس زندہ <mark>خدا</mark> کی خاطرانہوں <mark>نے</mark> اپنی خودی کو فنا کر دیا اور الٰہی طریقہ پر جاں نثار کر<mark>نے</mark> والے بن گئے۔ننگ و<mark>نام</mark>وس اور جاہ وعزت سے لاپرواہ ہو گئے دل ہاتھ سے جاتا رہا اور ٹوپی سر سے گر پڑی۔خودی سے دور اور یار سے وابستہ ہو گئے کسی (حسین) چہرہ کے لئے عزت قربان کر دی۔اُن کا ذکر بھی <mark>خدا</mark> کی یاد دلاتا ہے وہ <mark>خدا</mark> کی بارگاہ میں وفادار ہیں۔اگر تو تلاش کرتا ہے تو یاد رکھ کہ ایمان ایسا ہوا کرتا ہے تلاش کر<mark>نے</mark> والوں کے لئے یہ کام آسان ہو جاتا ہے۔لیکن تو دنیا کی محبت میں گرفتار ہے جب تک نہ مرے گا اس جھگڑے سے کس طرح نجات پائے گا۔اے دنیا پرست کتے جب تک تجھ پر موت نہ آئے گی تب تک اس یار کا دامن کس طرح ہاتھ آئے گا