احمدی اور غیراحمدی میں کیا فرق ہے؟ — Page 490
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۸۶ احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے؟ بنادیتی ہے مثلاً ریا ہی کو لو۔ یہ بھی دراصل بُری نہیں کیونکہ اگر کوئی کام محض خدا تعالیٰ کے لیے کرتا ہے اور اس لیے کرتا ہے کہ اس نیکی و تحریک دوسروں کو بھی ہو تو یہ ریا بھی نیکی ہے۔ ریا کی دوقسمیں ہیں ایک دنیا کے لیے مثلاً کوئی شخص نماز پڑھا رہا ہے اور پیچھے کوئی بڑا آدمی آ گیا اس کے خیال اور لحاظ سے نماز کو لمبا کرنا شروع کر دیا۔ ایسے موقع پر بعض آدمیوں پر ایسا رعب پڑ جاتا ہے کہ وہ بھول بھول جاتے ہیں۔ یہ بھی ایک قسم ریا کی ہے جو ہر وقت ظاہر نہیں ہوتی مگر اپنے وقت پر جیسے بھوک کے وقت روٹی کھاتا ہے یا پیاس کے وقت پانی پیتا ہے مگر برخلاف اس کے جو شخص محض اللہ تعالیٰ کے لیے نماز کو سنوار سنوار کر پڑھتا ہے وہ ریا میں داخل نہیں بلکہ رضاء الہی کے حصول کا ذریعہ ہے ۔ غرض ریا کے بھی محل ہوتے ہیں۔ اور انسان ایسا جانور ہے کہ بے محل عیوب پر نظر نہیں کرتا مثلاً ایک شخص اپنے آپ کو بڑا عفیف اور پارسا سمجھتا ہے راستہ میں اکیلا جا رہا ہے۔ راستہ میں وہ ایک تھیلی جواہرات کی پڑی پاتا ہے وہ اُسے دیکھتا ہے اور سوچتا ہے کہ مداخلت کی کوئی بات نہیں۔ کوئی دیکھتا نہیں۔ اگر یہ اس وقت اس پر گرتا نہیں اور سمجھتا ہے کہ غیر کا حق ہوگا اور روپیہ جو گرا ہوا ہے آخر کسی کا ہے۔ ان باتوں کو سوچ کر اگر اس پر نہیں گرتا اور لالچ نہیں کرتا تو فی الحقیقت پوری عفت اور تقویٰ سے کام لیتا ہے ۔ ورنہ اگر نرا دعویٰ ہی دعویٰ ہے تو اُس وقت اُس کی حقیقت کھل جاوے گی اور وہ اُسے لے لے گا۔ اسی طرح ایک شخص جس کے متعلق یہ خیال ہے کہ وہ ریا نہیں کرتا ۔ جب ریا کا وقت ہو اور وہ نہ کرے تو ثابت ہوگا کہ نہیں کرتا لیکن جیسا کہ ابھی میں نے ذکر کیا بعض اوقات ان عادتوں کا محل ایسا ہوتا ہے کہ وہ بدل کر نیک ہو جاتی ہیں چنانچہ نماز جو با جماعت پڑھتا ہے اس میں بھی ایک ریا تو ہے لیکن انسان کی غرض اگر نمائش ہی ہو تو بیشک رہا ہے اور اگر اس سے غرض اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری مقصود ہے تو یہ ایک عجیب نعمت ہ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے نیکی کی تحریک ہونا چاہیے۔ (ناشر)