احمدی اور غیراحمدی میں کیا فرق ہے؟

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 489 of 597

احمدی اور غیراحمدی میں کیا فرق ہے؟ — Page 489

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۸۵ احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے؟ پس جب دنیا بغیر مشکلات اور محنت کے ہاتھ نہیں آتی تو عجب بے وقوف ہے وہ انسان جو دین کو حلوائے بے دود سمجھتا ہے ۔ یہ تو بیچ ہے کہ دین سہل ہے مگر ہر نعمت مشقت کو چاہتی ہے۔ با ایں اسلام نے تو ایسی مشقت بھی نہیں رکھی ۔ ہندوؤں میں دیکھو کہ اُن کے جو گیوں اور سنیاسیوں کو کیا کیا کرنا پڑتا ہے۔ کہیں اُن کی کمریں ماری جاتی ہیں ۔ کوئی ناخن بڑھاتا ہے۔ ایسا ہی عیسائیوں میں رہبانیت تھی ۔ اسلام نے ان باتوں کو نہیں رکھا بلکہ اس نے یہ تعلیم دی ۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَکھا لے یعنی نجات پا گیا وہ شخص جس نے تزکیہ نفس کیا یعنی جس نے ہر ایک قسم کی بدعت فسق و فجور، نفسانی جذبات سے خدا تعالیٰ کے لیے الگ کر لیا۔ اور ہر قسم کی نفسانی لذات کو چھوڑ کر خدا کی راہ میں تکالیف کو مقدم کر لیا۔ ایسا شخص فی الحقیقت نجات یافتہ ہے جو خدا تعالیٰ کو مقدم کرتا ہے اور دنیا اور اس کے تکلفات کو چھوڑتا ہے اور پھر فرمایا قَدْ خَابَ مَنْ دَ سہا نے مٹی کے برابر ہو گیا وہ شخص جس نے نفس کو آلودہ کر لیا یعنی جو زمین کی طرف جھک گیا۔ گویا یہ ایک ہی فقرہ قرآن کریم کی ساری تعلیمات کا خلاصہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کس طرح خدا تعالیٰ تک پہنچتا ہے۔ یہ بالکل سچی اور پکی بات ہے کہ جب تک انسان قومی بشریہ کے بُرے طریق کو نہیں چھوڑتا اس وقت تک خدا انہیں ملتا۔ دنیا کی گندگیوں سے نکلنا چاہتے ہو اور خدا تعالیٰ کو ملنا چاہتے ہو تو ان لذات کو ترک کرو۔ ورنہ ہم خدا خواہی و ہم دنیائے دوں این خیال است و محال است و جنوں انسان کی فطرت میں دراصل بدی نہ تھی اور نہ کوئی چیز بُری ہے لیکن بد استعمالی بری کا حاشیہ۔ بدر ہے۔ جس نے دین کو مقدم کیا وہ خدا کے ساتھ مل گیا۔ نفس کو خاک کے ساتھ ملا دینا چاہیے ۔ خدا کو ہر بات میں مقدم کرنا چاہیے۔ یہی دین کا خلاصہ ہے جتنے برے طریق ہیں اُن سب کو ترک کر دینا چاہیے۔ تب خدا ملتا ہے۔ ( بدر جلد ۲ نمبر ۶ صفحه ۳ مورخه ۹ فروری ۱۹۰۶ء) الشمس: ١٠ الشمس : ال