احمدی اور غیراحمدی میں کیا فرق ہے؟ — Page 473
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۶۹ احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے؟ ثبوت موجود ہیں کہ کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ منجملہ ان کے ایک یہ بات ہے کہ زندہ نبی وہی ہو سکتا ہے جس کے برکات اور فیوض ہمیشہ کے لیے جاری ہوں اور یہ ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے زمانہ سے لے کر اس وقت تک کبھی بھی مسلمانوں کو ضائع نہیں کیا۔ ہر صدی کے سر پر اس نے کوئی آدمی بھیج دیا جو زمانہ کے مناسب حال اصلاح کرتا رہا یہاں تک کہ اس صدی پر اس نے مجھے بھیجا ہے تاکہ میں حیات النبی کا ثبوت دوں۔ یہ امر قرآن شریف سے بھی ثابت ہے کہ اللہ تعالی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی حفاظت کرتا رہا ہے اور کرے گا جیسا کہ فرمایا ہے اِنا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ یعنی بیشک ہم نے ہی اس ذکر کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔ اِنَّا لَهُ لحفِظُونَ کا لفظ صاف طور پر دلالت کرتا ہے کہ صدی کے سر پر ایسے آدمی آتے رہیں گے جو گمشدہ متاع کو لائیں اور لوگوں کو یاد دلائیں۔ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب پہلی صدی گزر جاتی ہے تو پہلی نسل بھی اُٹھ جاتی ہے اور اس نسل میں جو عالم ، حافظ قرآن، اولیاء اللہ اور ابدال ہوتے ہیں وہ فوت ہو جاتے ہیں اور اس طرح پر ضرورت ہوتی ہے کہ احیاء ملت کے لیے کوئی شخص پیدا ہو کیونکہ اگر دوسری صدی میں نیا بندو بست اسلام کے تازہ رکھنے کے لیے نہ کرے تو یہ مذہب مرجاوے۔ اس لیے وہ ہر صدی کے سر پر ایک شخص کو مامور کرتا ہے جو اسلام کو مرنے سے بچالیتا ہے اور اس کونئی زندگی عطا کرتا ہے اور دنیا کو ان غلطیوں بدعات اور غفلتوں اور سستیوں سے بچالیتا ہے جواُن میں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ خصوصیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو حاصل ہے اور یہ آپ کی حیات کی ایسی زبر دست دلیل ہے کہ کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔ اس طرح پر آپ کے برکات و فیوض کا سلسلہ لا انتہا اور غیر منقطع ہے اور ہر زمانہ میں گویا اُمت آپ کا ہی الحجر :١٠