رسالہ درود شریف — Page 66
ر ساله درود شریف ١١٢ تعلیمات وارشادات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بعض ہدایات دربارہ درود شریف شرائط بیعت میں درود شریف کے التزام کی تاکید (شرط) سوم یہ کہ بلا ناغہ پنجوقتہ نماز موافق حکم خدا اور رسول کے ادا کرتا رہے گا۔اور حتی الوسع نماز تہجد کے پڑھنے اور اپنے نبی کریم پر درود بھیجنے اور ہر روز اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور استغفار کرنے میں مداومت اختیار کرے گا۔اور دلی محبت سے خدا تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے اس کی حمد اور تعریف کو اپنا ہر روزہ درد بنالے گا۔(اشتہار ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء) عملی طریق کی تعلیم اور اس میں درود شریف کے التزام کی تاکید مکتوب بنام حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ تعالٰی عنہ ) بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ و فصلی علی رسولہ الکریم مکرم اخویم میر صاحب سلمہ اللہ تعالی۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته عنایت نامہ پہنچا جو آپ نے اپنے عملی طریق کے لئے دریافت کیا ہے۔وہ یہی امر ہے کہ رسول اللہ مین اسلام کی حقیقی اتباع کی طرف رغبت کریں۔رسول اللہ میں اللہ نے جن اعمال پر نہایت درجہ اپنی محبت ظاہر فرمائی ہے۔وہ دو ہیں۔ایک نماز اور ایک جہاد۔نماز کی نسبت آنحضرت فرماتے ہیں کہ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلوۃ یعنی میری آنکھ کی ١١٣ رساله درود شریف ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔اور جہاد کی نسبت فرماتے ہیں کہ میں آرزو رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر قتل کیا جاؤں۔سو اس زمانہ میں جہاد روحانی صورت سے رنگ پکڑ گیا ہے۔اور اس زمانہ کا جہاد یہی ہے۔کہ اعلاء کلمہ اسلام میں کوشش کریں۔مخالفوں کے الزامات کا جواب دیں۔دین متین اسلام کی خوبیاں دنیا میں پھیلا دیں۔آنحضرت کی سچائی دنیا پر ظاہر کریں۔یہی جہاد ہے جب تک خدا تعالی کوئی دوسری صورت دنیا میں ظاہر کرے۔۔اور نماز اسی پہلی حالت پر ہے۔کہ نماز میں خدا تعالیٰ سے ہدایت چاہیں۔اور اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کا تکرار کریں۔خواہ گنجائش وقت کے ساتھ وہ تکرار سو مرتبہ تک پہنچ جائے۔سجدہ میں اکثر يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيْتُ تمام تر عجز کہا کریں۔مگر نماز کی قنوت میں عربی عبارتیں ضروری نہیں۔قنوت ان دعاؤں کو کہتے ہیں۔جو مختلف وقتوں میں مختلف صورتوں میں پیش آتی ہیں۔سو بہتر ہے کہ ایسی دعا ئیں اپنی زبان میں کی جائیں۔قرآن کریم اور ادعیہ ماثورہ اسی طرح پڑھنی چاہئیں۔جیسا کہ پڑھی جاتی ہیں۔مگر جدید مشکلات کی قنوت اگر اپنی زبان میں پڑھیں تو بہتر ہے تا اپنی مادری زبان نماز کی برکت سے بے نصیب نہ رہے۔قنوت کی دعاؤں کا التزام حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے۔بعض پانچ وقت کے قائل ہیں۔اور بعض صبح سے مخصوص رکھتے ہیں اور بعض ہمیشہ کے لئے۔اور بعض کبھی کبھی ترک بھی کر دیتے ہیں۔مگر اصل بات یہ ہے کہ قنوت مصائب اور حاجات جدیدہ کے وقت یا ناگہانی حوادث کے وقت ہوتا ہے۔چونکہ