رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 46 of 169

رسالہ درود شریف — Page 46

رساله درود شریف く ہے تو ہرگز دولت عرفاں نے یابد کیسے گرچه میرد در ریاضت ها و جهد بے شمار تکیه بر اعمال خود بے عشق رویت ابلهی است غافل از رویت نه بیند روئے نیکی زینهار در دے حاصل شود نورے زعشق روئے تو کال نباشد سالکان را حاصل اندر روزگار از عجائب ہائے عالم ہرچہ محبوب و خوش است شان آن ہر چیز ہر چیز بینم در وجودت آشکار خوشتر از دوران عشق تو نباشد بیچ خوبتر از وصف و مدح تو نباشد بیچ کار رور (۳۵) معرفت کی دولت تیرے بغیر کوئی بھی نہیں پاتا۔خواہ کتنی ہی محنت اور کوشش کرے۔(۳۶) تیرے عشق کے بغیر اپنے اعمال پر بھروسہ کرنا بیوقوفی ہے۔جو تجھ سے غافل ہے وہ نیکی کا منہ ہرگز نہیں دیکھے گا۔(۳۷) تیرا عاشق ہو کر فورا ایسا نور حاصل ہوتا ہے جو سالکوں کو اپنے طور پر ساری عمر میں بھی حاصل نہیں ہوتا۔(۳۸) دنیا کے عجائبات میں سے جو چیز بھی اچھی ہے اس کی شان تیرے وجود میں میں کھلم کھلا پاتا ہوں۔(۳۹) جو وقت تیرے عشق میں گزرے اس وقت سے بہتر اور کوئی وقت نہیں۔تیری ثنا اور تعریف سے اچھا اور کوئی کام نہیں۔منکه ره بروم بخوبی ہائے بے پایان تو جاں گزارم بهر تو گر دیگرے خدمتگزار ہر کے اندر نماز خود دعائے مے کند من دعا ہائے بروبار تو اے باغ و بہار یا نبی اللہ فدائے ہر سر موئے تو ام وقف راه تو کنم گر جاں دہندم صد ہزار انتباع و عشق رویت از ره تحقیق کیمیائے ہر دلے اکسیر ہر جان فگار دل اگر خون نیست از بهرت چه چیز است آندلی در شار تو نگردد جاں کجا آید کار (۴۰) چونکہ مجھے تیری بے انتہا خوبیوں کا علم حاصل ہو گیا ہے۔اس لئے اگر دوسرا خد متگذار ہے۔تو میں تیرے لئے اپنی جان پیش کر نیوالا ہوں۔(۴۱) ہر شخص اپنی نماز میں کوئی نہ کوئی دعا کرتا ہے۔لیکن اے باغ و بہار میں تو تیرے ہی پھلوں پھولوں کے لئے دعا کیا کرتا ہوں۔(۴۲) اے اللہ کے نبی میں تو تیرے روئیں روئیں پر قربان ہوں۔اگر مجھے لاکھ جانیں بھی ملیں تو تیری راہ میں وقف کر دوں۔(۴۳) تحقیقات کے بعد یہ بات پختہ طور پر ثابت ہو گئی ہے کہ تیری اتباع اور تیرا عشق ہر ایک دل کے لئے کیمیا ہے اور ہر ایک کچلی ہوئی جان کے لئے اکسیر ہے۔(۴۴) جو دل تیرا عاشق نہ ہو وہ کس کام کا اور جو جان تجھ پر نار نہ ہو وہ کس کام کی۔