رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 40 of 169

رسالہ درود شریف — Page 40

ساله رود شریف 4۔در و دلش از نور حق صدیے آفتاب و مه چه می ماند بدو گرفتند کس را براں خوش پیکرے یک نظر بهتر ز عمر جاوداں جاں فشانم گر دہر دل دیگرے ہر زمان مستم کند از ساغری منکه از حسنش همی دارم خبر یاد آن صورت مرا از خود برد مے پریدم سوئے کوئے او مدام من اگر مے داشتم بال و پرے لاله و ریحان چه کار آید مرا من سرے دارم ہاں رو و سرے خوبے او دامن دل می کشد موکشانم سے برو زور آورے (۲۷) سورج اور چاند بھلا اس جیسے کہاں ہو سکتے ہیں۔اس کے دل میں تو خدا تعالٰی کے نور کے صدہا چاند اور سورج ہیں۔(۲۸) اس حسین کو ایک دفعہ دیکھ لینا ہمیشہ کی زندگی سے بہتر ہے۔(۲۹) چونکہ مجھے اس کے حسن کا علم ہے۔اس لئے جہاں دوسروں نے اسے اپنا صرف دل دیا ہے ، وہاں اس پر میں اپنی جان بھی قربان کرتا ہوں۔(۳۰) اس صورت کی یاد مجھے بیجود کر رہی ہے، جو مجھے ہر وقت (محبت کی) شراب سے مست رکھتی ہے۔(۳۱) اگر میرے پر ہوتے تو میں اڑ کر اس کی گلی میں پہنچتا۔(۳۲) گلاب اور چنبیلی کے پھول میرے کس کام۔میرا تصور تو اسی چہرے اور سر کی طرف لگا رہتا ہے۔(۳۳) اس کی خوبی میرے دل کے دامن کو کھینچ رہی ہے۔اور ایک زور دار چیز مجھے گھینٹے لئے جا رہی ہے۔ہا دیده ام کو ہست نور دیده با در اثر مهرش چو مهر انورے تافت آنروئے کزاں رو سرنتافت یافت آن درماں کہ بگزید آن درے ہر کہ بے او زد قدم در بحر دیں کرد در در اول قدم گم مجرے امی و در علم و حکمت بے نظیر زیں چہ باشد مجھے روشن ترے چه شد عیاں از وے علی الوجہ الا تم جو ہرے انسان کہ بود آں مضمرے ختم شد برنفس پاکش ہر کمال لاجرم شد ختم ہر پیغمبرے آفتاب ہر زمین و ہر زماں رہبر ہر اسود ہر احمد نے (۳۴) میں نے دیکھ لیا ہے کہ وہی آنکھوں کا نور ہے۔اس کی محبت تاثیر کے لحاظ سے آفتاب کی طرح ہے۔(۳۵) اس شخص کا چہرہ روشن ہوا جس نے اپنا منہ اس کی طرف سے نہیں پھیرا اور اس شخص نے شفا پائی جس نے اس دروازے کو اختیار کر لیا۔(۳۶) جس شخص نے اس سے الگ ہو کر دین کے سمندر میں قدم مارا۔اس نے پہلے ہی قدم میں جائے عبور کو گم کر دیا۔(۳۷) لکھنا پڑھنا نہ جاننے کے باوجود علم و حکمت میں بے نظیر۔اس سے بڑھ کر (اس کے سچا ہونے کی اور کونسی روشن دلیل ہو سکتی ہے۔(۳۸) انسان کے جوہر کا جو بالکل پوشیدہ تھا اس کے ذریعہ سے پوری طرح پتہ لگا ہے۔(۳۹) اس کے پاک وجود پر ہر ایک کمان ختم ہوا جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ ہر ایک پیغمبر کا اختتام ہو گیا۔(۴۰) وہ ہر ایک ملک اور ہر زمانہ کا سورج ہے اور ہر ایک کالے اور گورے کا رہنما۔