رسالہ درود شریف — Page 41
رساله درود شریف مجمع البحرین علم و معرفت جامع الاسمین ابر و خاورے سالکاں را نیست غیر از دے امام رهروان را نیست جزوے رہبرے جائے او جائے کہ طیر قدس را سوزد از انوار آن بال و پرے خلق را بخشید از حق کام جاں وا رہانیده از کام اژدری یک طرف حیران از و شاہان وقت یک طرف مبہوت ہر دانشورے نے معلمش کس رسید و نے بزور شکستہ کبر ہر متکبری ور (۴۱) وہ علم کے سمندر اور معرفت کے سمندر کے جمع ہونے کی جگہ ہے اور اس کے دو نام ہیں ابر بھی (جو سورج میں حائل ہوتا ہے) اور مشرق بھی (جو اسے نکالتا ہے)۔(۴۲) سالکوں کا اس کے سوا اور کوئی امام نہیں۔اور راہروؤں کو اس کے سوا اور کوئی رستہ دکھانیوالا نہیں۔(۴۳) اس کا مقام وہ مقام ہے کہ اس کے انوار سے طائر قدس کے وہاں جانے سے پر جلتے ہیں۔(۴۴) خلقت کو اس کی دلی مراد عطا فرمائی یعنی حق اور راستی۔اور اس کو اثر رہا کے منہ سے چھڑایا۔(۴۵) ایک طرف تو بادشاہان وقت اس کے جاہ و جلال کو دیکھ کر حیران ہیں۔اور دوسری طرف ہر ایک عقل کا مدعی اس کے علم اور عقل کو دیکھ کر) ششدر۔(۴۶) اس کے علم اور اس کی طاقت کا کوئی مقابلہ نہ کر سکا۔ہر ایک متکبر کے غرور کو اس نے تو ڑ دیا۔۶۳ رساله درود شریف او چه میدارد بوح کس نیاز مدح او خود فخر ہر مدحت کرے ت او در روضه قدس و جلال و از خیال مادحاں بالا ترے اے خدا بر وے سلام ما رساں ہم بر اخوانش ز ہر پیغمبرے اول آدم آخر شاں احمد است اے جنگ آنکس که بیند آخرے انبیاء روشن گهر هستند لیک ہست احمد زاں ہمہ روشن ترے پیغمبران را چاکریم ہمچو خاکے اوفتاده بر درے ہر رسولے کو طریق حق نمود جان ما قرباں بر آن حق پرور نے (۴۷) اس کو کیا حاجت ہے کہ کوئی اس کی تعریف کرے۔اس کی تعریف کرنا خود تعریف کرنیوالے کے لئے باعث فخر ہے۔ما ہمہ (۴۸) وہ قدس اور جلال کے باغ میں رہتا ہے اور تعریف کرنے والوں کے خیالات کی رسائی سے بالا تر ہے۔(۴۹) اے خدا ہمار اسلام اس کو پہنچا۔اور اس کے بھائیوں کو بھی یعنی ہر ایک پیغمبر کو۔(۵۰) ان میں سے سب سے پہلا آدم ہے اور سب سے آخر احمد ہے۔کیا ہی خوش قسمت ہے وہ شخص جسے اس آخر میں آنے والے کو دیکھنا نصیب ہو۔(۵۱) تمام انبیاء روشن گوہر والے ہیں۔لیکن ان میں سے سب سے زیادہ روشن احمد ہے۔(۵۲) ہم تمام پیغمبروں کے خادم ہیں۔مٹی کی طرح ان کے دروازے پر پڑے ہوئے۔(۵۳) جس رسول نے بھی خدا تعالیٰ کا رستہ دکھایا۔ہماری جان ایسے حق پرور پر قربان ہے۔