رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 37 of 169

رسالہ درود شریف — Page 37

رساله درود شریف گئی ہے۔۵۴ مِنْ ذِكْرِوَجُهِكَ يَا حَدِيْقَةً بَهْجَتِي لَمْ اَخْلُ فِي لَحْرٍ وَ لَا فِي أَن تیرے منہ کی یاد سے اے میری خوشی کے باغ میں کبھی ایک لحظہ بھی فارغ نہیں رہتا۔جسْمِي يَطِيرُ إِلَيْكَ مِنْ شَوْقٍ عَلَا يَا لَيْتَ كَانَتْ قُوَّةُ الطَّيَرَانِ میرا جسم شوق غالب کے سبب سے تیری طرف اڑا جاتا ہے اے کاش مجھ میں اڑنے کی قوت ہوتی۔( آئینہ کمالات اسلام - روحانی خزائن جلد صفحه ۵۹۰ تا۵۹۶) ايضاً يَا قَلْبِي اذْكُرُ أَحْمَدًا عَيْنُ الْهُدَى مُقْنِي الْعِدًا اے میرے دل احمد کو یاد کر۔وہ ہدایت کا چشمہ اور دشمنوں کو فنا کر نیوالا ہے۔بَرًّا كَرِيمًا مُّحْسِنًا بَحْرَ الْعَطَايَا وَالْجَدَا نیک ہے ، کریم ہے ، محسن ہے ، بخششوں اور سخاوتوں کا سمند رہے۔بَدْرُ منير زَاهِرُ فِي كُلِّ وَصْفٍ حُمَّدًا چودھویں کا چاند ہے، نورانی ہے، روشن ہے، ہر بات میں اس کی تعریف کی گئی ہے۔۵۵ رساله درود شریف إِحْسَانُهُ يُصْبِي الْقُلُوبَ وَ حُسْنُهُ يُروى الصَّدَا اس کا احسان دلوں کو مائل کرتا ہے اور اس کا حسن پیاس کو بجھاتا ہے۔مسهدا مَا إِنْ رَأَيْنَا مِثْلَهُ لِلنَّائِمِينَ ہم نے اس جیسا سوتوں کو جگانے والا اور کوئی نہیں دیکھا۔الْمُصْطَفَى وَالْمُجْتَبى وَالْمُقْد والمجد (وہ) مصطفیٰ ہے اور مجتبی ہے اور مقتدا ہے اور اس سے جو دو عطا طلب کی جاتی ہے۔جُمِعَتْ مَرَابِيعُ الْهُدَى فِي وَبُلِهِ حِيْنَ النَّدا ہدایت کی بارشیں اس کی بارش میں اس کی سخاوت کے وقت اکٹھی کی گئی ہیں۔نَسِيَ الزَّمَانُ رِهَامَةَ مِنْ جَوْدِ هَذَا الْمُقْتَدَا زمانہ اپنی آہستہ آہستہ مسلسل بارش کو اسی مقتداء کی بارش کی وجہ سے بھول گیا ہے۔کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جگہ صفحہ ۷۰)