رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 36 of 169

رسالہ درود شریف — Page 36

رساله درود ۵۲ ۵۳ رساله درود شریف أ فَانتَ تُعْرِضُ عَنْ هُدَى الرَّحْمَنِ قرآن کو دیکھو کہ وہ کیسے صاف اس کی موت کا ذکر کرتا ہے۔کیا تم رحمن کی ہدایت سے منہ پھیرتے ہو۔فَاعْلَمُ بِأَنَّ الْعَيْشَ لَيْسَ بِثَابِتٍ بَلْ مَاتَ عِيسَى مِثْلَ عَبْدٍ فَانٍ جان لو کہ حیات کا کوئی ثبوت نہیں ہے بلکہ (حضرت) عیسی ایک فانی بندہ کی طرح فوت ہو گئے۔وَ نَبِيُّنَ حَيَّ وَ إِنِّي شَاهِدٌ وَ قَدِ اقْتَطَفْتُ قَطَائِفَ اللُّقْيَانِ اور ہمارے نبی زندہ ہیں اور میں گواہ ہوں اور میں آپ کی ملاقات کے ثمرات سے بہرہ مند ہوا ہوں۔وَ رَأَيْتُ فِي رَيْعَانِ عُمْرِى رَيْعَانِ عُمُرِى وَجْهَهُ ثُمَّ النَّبِيُّ بِنِقْطَنِي لَا قَانِي میں نے آغاز جوانی میں آپؐ کا چہرہ دیکھا پھر آنحضرت بیداری میں مجھ سے ملے۔إِنِّي لَقَدْ أُحْيِيْتُ مِنْ إِحْيَانِهِ واها الإِعْجَارٍ فَمَا أَحْيَانِي میں آپ کے زندہ کرنے سے زندہ کیا گیا ہوں۔سبحان اللہ ! کیا ہی اعجاز ہے اور میں بھی کیا خوب زندہ ہوا ہوں۔يا رَبِّ صَلِّ عَلَى نَبِيِّكَ دَائِمًا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا وَبَعْبٍ ثَانٍ اے میرے رب! اپنے نبی پر ہمیشہ درود بھیج ، اس دنیا میں بھی اور دو سرے عالم میں بھی۔يَا سَيِّدِى قَدْ جِئْتُ بَابَكَ لَاهِقًا وَالْقَوْمُ بِالْإِكْفَارِ قَدْ أَذَانِي میرے آقا میں سخت غمزدہ ہو کر تیرے دروازہ پر حاضر ہوا ہوں اور قوم نے مجھے کافر کہہ کر سخت ستایا ہے۔کو کچلتا ہے۔ہے۔ہوں۔يُفْرِى سِهَامُكَ قَلْبَ كُلّ مُحَارِبِ وَ يَشْةٌ عَزْمُكَ هَامَةَ الثَّعْبَانِ تیرے تیر ہر جنگجو کے دل کو چھید تے ہیں اور تیرا عزم اژدہاؤں کے سر للهِ دَركَ يَا إِمَامَ الْعَالَمِ أنتَ السَّبُوقُ وَ سَيدُ التَّجْعَانِ آفرین تجھے اے امام جہاں! تو سب سے بڑھا ہوا اور شجاعوں کا سردار انظُرُ إِلَيَّ بِرَحْمَةٍ وَ تَحَتُّنِ يَا سَيِّدِى أَنَا أَحْفَرُ الْعِلْمَانِ مجھ پر رحم اور محبت کی نظر کر اے میرے آقا! میں تیرا ایک ناچیز غلام يَا حِبْ إِنَّكَ قَدْ دَخَلْتَ مَحَيَّةٌ فِي مُهْجَتِى و مَدَارِكِي وَ جَنَانِي اے میرے پیارے ! تیری محبت میری جان میرے سر اور دماغ میں رچ