رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 64 of 169

رسالہ درود شریف — Page 64

رساله درود شریف ١٠٨ سورہ یسین سنائی۔جب تیسری مرتبہ سورہ یسین سنائی گئی۔تو میں دیکھتا تھا کہ بعض عزیز میرے جو اب دنیا سے گزر بھی گئے۔دیواروں کے پیچھے بے اختیار روتے تھے۔اور مجھے ایک قسم کا سخت قولنج تھا۔اور بار بار دمبدم حاجت ہو کر خون آتا تھا۔سولہ دن برابر ایسی حالت رہی۔اور اسی بیماری میں میرے ساتھ ایک اور شخص بیمار ہوا تھا۔وہ آٹھویں دن راہی ملک بقا ہو گیا۔حالانکہ اس کے مرض کی شدت ایسی نہ تھی جیسی میری۔جب بیماری کو سولھواں دن چڑھا۔تو اس دن بکلی حالت یاس ظاہر ہو کر تیسری مرتبہ مجھے سورہ یس سنائی گئی۔اور تمام عزیزوں کے دل میں یہ پختہ یقین تھا کہ آج شام تک یہ قبر میں ہو گا۔تب ایسا ہوا کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے مصائب سے نجات پانے کے لئے بعض اپنے نبیوں کو دعائیں سکھلائی تھیں مجھے بھی خدا نے الہام کر کے ایک دعا سکھلائی۔اور وہ یہ ہے سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ اعظم اللهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ الِ مُحَمَّدٍ اور میرے دل میں خدا تعالیٰ نے یہ الہام کیا۔کہ دریا کے پانی میں جس کے ساتھ ریت بھی ہو ہاتھ ڈال۔اور یہ کلمات طیبہ پڑھ۔اور اپنے سینہ اور ۱۰۹۰ رساله و روونه اس خدا کی قسم ہے۔جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ہر ایک دفعہ ان کلمات طیبہ کے پڑھنے اور پانی کو بدن پر پھیرنے سے میں محسوس کرتا تھا۔کہ وہ آگ اندر سے نکلتی جاتی ہے۔اور بجائے اس کے ٹھنڈک اور آرام پیدا ہوتا جاتا ہے۔یہاں تک کہ ابھی اس پیالہ کا پانی ختم نہ ہوا تھا۔کہ میں نے دیکھا۔کہ بیماری بکلی مجھے چھوڑ گئی۔اور میں سولہ دن کے بعد رات کو تندرستی کے خواب سے سویا۔جب صبح ہوئی۔تو مجھے یہ الہام ہوا :- وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِشِفَاءٍ مِّنْ مثله یعنی اگر تمہیں اس نشان میں شک ہو۔جو شفادے کر ہم نے دکھلایا۔تو تم اس کی نظیر کوئی اور شفا پیش کرو۔تریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۲۰۹ نشان نمبر ۱۵) (۶) (نشان نمبر۷۷ تاریخ ۱۸۸۰ء) ایک مرتبہ میں ایسا سخت بیمار ہوا۔کہ میرا آخری وقت سمجھ کہ مجھ کو مسنون طریقہ سے تین دفعہ سورۂ نفس سنائی گئی۔اور میری زندگی سے سب مایوس ہو چکے تھے۔اور بعض عزیز دیواروں کے پیچھے روتے تھے۔تب اللہ تعالیٰ نے الہاما مجھے یہ دعا سکھلائی۔سُبْحَانَ پشت سینہ اور دونوں ہاتھوں اور منہ پر اس کو پھیر۔کہ اس سے تو شفا پائے اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى گا۔چنانچہ جلدی سے دریا کا پانی معہ ریت منگوایا گیا۔اور میں نے اس طرح عمل کرنا شروع کیا۔جیسا کہ مجھے تعلیم دی گئی۔اور اس وقت حالت یہ تھی کہ میرے ایک ایک بال سے آگ نکلتی تھی۔اور تمام بدن میں درد ناک مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ - اور القا ہوا۔کہ دریا کے پانی میں جس کے - ساتھ ریت بھی ہو۔ہاتھ ڈال۔اور یہ کلمات طیبہ پڑھ۔اور اپنے سینے اور پشت سینہ اور دونوں ہاتھوں اور منہ پر اس کو پھیر۔کہ تو اس سے شفا پائے جلن تھی۔اور بے اختیار طبیعت اس بات کی طرف مائل تھی کہ اگر موت گا۔چنانچہ اس پر عمل کیا گیا۔اور ابھی پیالہ ختم نہ ہونے پایا تھا۔کہ مجھے بکلی بھی ہو تو بہتر۔تا اس حالت سے نجات ہو مگر جب وہ عمل شروع کیا۔تو مجھے صحت ہو گئی۔پھر یہ الہام ہوا۔وَ اِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَى