رسالہ درود شریف — Page 15
ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خمدار کا آنکھ کے اندھوں کو حائل ہو گئے سو سو حجاب ورنہ تھا قبلہ ترا رخ کافر و دیندار کا ہیں تری پیاری نگاہیں دلبرا اک تیغ تیز جس سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑا غم اغیار کا تیرے ملنے کے لئے ہم مل گئے ہیں خاک میں تا مگر درماں ہو کچھ اس ہجر کے آزار کا ایک دم بھی کل نہیں پڑتی مجھے تیرے سوا جاں گھٹی جاتی ہے جیسے دل گھٹے بیمار کا شور کیسا ہے ترے کوچہ میں لے جلدی خبر خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا سرمه چشمه آرید - روحانی خزائن جلد ۲ صفحه (۵۲) ايضاً دنیا میں عشق تیرا باقی ہے سب اندھیرا معشوق ہے تو میرا عشق صفا یہی ہے لئے اڑایا مشت غبار اپنا تیرے جب سے سنا کہ شرط مهر و وفا یہی ہے درد آیا حرف خودی مٹایا جب میں مرا جلایا جام بقا کی ہے دلبر کا اس عشق میں مصائب سو سو ہیں ہر قدم میں پر کیا کروں کہ اس نے مجھ کو دیا یہی ہے رساله در دو حرف وفا نہ چھوڑوں اس عہد کو نہ توڑوں اس دلبر ازل نے مجھ کو کہا یہی ہے دلبر کی رہ رہ میں یہ دل ڈرتا نہیں کسی سے ہشیار ساری دنیا اک باولا یہی ہے ہیں اس رہ میں اپنے قصے میں تم کو کیا سناؤں دکھ درد کے جھگڑے سب ماجرا کی ہے۔دل کر کے پارہ پارہ چاہوں میں اک نظارہ دیوانه مت کہو تم عقل رسا یہی ہے اے میرے یار جانی کر خود ہی مہربانی مت کہہ تو لن ترانی تجھ سے رجا یہی ہے فرقت بھی کیا بنی ہے ہر دم میں جانکنی ہے عاشق جہاں مرتے وہ کربلا میں ہے تیری وفا ہے پوری ہم میں ہے عیب دوری طاعت بھی ہے ادھوری ہم پر بلا کی ہے تجھ میں وفا ہے پیارے بچے ہیں عہد سارے ہم جا پڑے کنارے جائے پکا کہی ہے پر تو کھلا رہی ہے ہم نے نہ عمد پالا یاری میں رخنہ ڈالا ہے فضل والا ہم پر اے میرے دل کے درماں ہجراں ہے تیرا سوزاں جس کو دوزخ وہ جانگزا یہی ہے کہتے ہیں ( قادیان کے آریہ اور ہم۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۵۱ تا ۳۵۳) i