رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 14 of 169

رسالہ درود شریف — Page 14

رساله درود شریف ايضا چہ شیریں منظری اے دلستانم چہ شیریں خصلتی اے جان جانم چو دیدم روئے تو دل در تو بستم نمانده غیر تو اندر جهانم توان برداشتن دست از دو عالم مگر ہجرت بسوزد استخوانم در آتش تن به آسانی توان داد ز ہجرت جاں رود باصد فغانم (حقیقۃ الوحی- روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۵۶) ايضاً اے خشک دیده که گریانش اے ہمایوں دلے کہ بریانش اے مبارک کے کہ طالب اوست فارغ از عمرو و زید بارخ دوست در حقیقت بس است یار یکے دل یکے جاں یکے نگار یکے (براہین احمدیه - روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۱۲۵) (1) اے میرے محبوب تیری صورت کیسی پیاری ہے۔اے میری جان کی جان ! تیری خصلتیں کیسی شیریں ہیں۔(۲) جب میں نے تیرا چہرہ دیکھا۔تو میں تیرا گرویدہ ہو گیا۔اب تمام جہان میں تیرے سوا میرا اور کوئی (محبوب) نہیں ہے۔(۳) دونوں جہانوں کو چھوڑا جا سکتا ہے۔مگر تیری جدائی کی مجھ میں برداشت نہیں۔وہ تو میری ہڈیوں تک کو جلا دے گی۔(۴) آگ میں پڑنا آسان ہے مگر تیری جدائی تو مجھے رلا دلا کر مار ہی ڈالے گی۔(ایضاً) (۱) وہ آنکھ کیا ہی ٹھنڈی ہے جو اس کے لئے روتی ہے۔وہ دل کیا ہی مبارک ہے جو اس کی محبت سے بریاں ہے۔(۲) وہ شخص کیا ہی مبارک ہے جو اس کا طالب ہے اور اپنے محبوب کے چہرہ کے عشق میں محو ہو کر اوروں سے فارغ ہے۔(۳) حقیقت میں وہ ایک ہی محبوب کافی ہے جس طرح دل ایک ہے۔اور جان بھی ایک ہے۔اسی طرح محبوب بھی ایک ہی ہونا چاہئے۔ايضاً بزبان اردو رساله درود شریف قدر ظاہر ہے نور اس مبدء الانوار کا بن رہا ہے سارا عالم آئینہ انصار کا چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بیکل ہو گیا کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کی اس بہار حسن کا دل میں ہمارے جوش ہے مت کرد کچھ ذکر ہم سے ترک یا تاتار کا ہے عجب جلوہ تری قدرت کا پیارے ہر طرف جس طرف دیکھیں وہی رہ ہے تیرے دیدار کا خورشید میں موجیں تری مشہور ہیں ہر ستارے میں تماشا ہے تری چکار کا تو نے خود روحوں پہ اپنے ہاتھ سے چھڑکا نمک اس سے ہے شور محبت عاشقان زار کا کیا عجب تو نے ہر اک ذرہ میں رکھے ہیں خواص کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر ان اسرار کا تیری قدرت کا کوئی بھی انتہا پاتا نہیں کس سے کھل سکتا ہے بیچ اس عقدہ دشوار کا خوبرؤوں میں ملاحت ہے ترے اس حسن کی ہر گل و گلشن میں ہے رنگ اس ترے گلزار کا چشم مست ہر حسیں ہر دم دکھاتی ہے تجھے