رسالہ درود شریف — Page 13
رساله درود شریف ايضاً بزبان فارسی محبت تو دوائے ہزار بیماری بروئے تو کہ رہائی دریں گرفتاری ست پناہ روئے تو جستن نه طور مستان است که آمدن به پناهت کمال ہشیاری ست متاع مهر رخ تو نہاں نخواهم داشت کہ خفیه داشتن عشق تو ز غداری ست بر آن سرم کہ سر و جاں فدائے تو بکنم کہ جان به یار سپردن حقیقت یاری ست ( آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه (۲) (1) تیری محبت سینکڑوں بیماریوں کی ایک ہی) دوا ہے۔تیرے چہرہ کی قسم کہ نجات اس گرفتاری میں ہی ہے۔(۲) تیرے چہرہ کی پناہ لینا مستوں کا کام نہیں۔بلکہ تیری پناہ میں آنا تو کمال درجہ کی ہوشیاری ہے۔(۳) میں تیری محبت کے سرمایہ کو پوشیدہ نہیں رکھوں گا۔کیونکہ تیرے عشق کو پوشیدہ رکھنا بیوفائی میں داخل ہے۔(۴) میں نے عزم کر لیا ہے کہ اپنا جسم اور جان تجھ پر فدا کر دو نگا۔کیونکہ اپنی جان محبوب کے سپرد کر دینا ہی محبت کی حقیقت ہے۔رساله درود شریف ايضاً اے خالق ارض و سما بر من در رحمت کشا دانی تو آں درد مرا کز دیگراں پنہاں کنم از بس لطیفی دلبرا در هر رگ و تارم درآ تا چون به خود یابم ترا دل خوشتر از بستان کنم در سر کشی اے پاک خو جاں بر کنم در ہجر تو ز انسان ہے گریم کزو یک عالمے گریاں کنم " خواهی قهرم کن جدا خواهی بلطفم رونما خواهی بکش یا کن رہا کے ترک آں داماں کنم (براہین احمدیہ - روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۱۳) (۱) اے زمین و آسمان کے خالق مجھ پر اپنی رحمت کا دروازہ کھول دے تو میرے درد کو جانتا ہے جسے میں اوروں سے چھپاتا ہوں۔(۲) اے میرے دلبر تو بہت ہی لطیف ہے۔تو میرے وجود کے ہر رگ وریشہ کے اندر آجا۔تاکہ جب میں تجھے اپنے اند ر پاؤں تو میرا دل باغ باغ ہو جائے۔(۳) اور اے پاک خو۔اگر تو نے میری عرض نہ مانی تو میں تیری جدائی کی تاب نہ لا کر اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالوں گا۔میں ایسا روؤں گا۔کہ اپنے ساتھ ایک جہان کو رلا دونگا۔(۲) اب چاہے تو اپنے قہر کے ساتھ مجھے جدا کر دے۔چاہے تو مہربانی فرما کر مجھے اپنا چہرہ دکھا دے۔چاہے تو مار ڈال یا بچالے۔میں تیرا دامن کبھی نہیں چھوڑونگا۔