رسالہ درود شریف — Page 124
رساله درود شریف ۲۲۸ مسجد میں آنے اور جانے کے وقت جامع ترمذی میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت نبی کریم ملی - روایت ہے کہ جب آنحضرت امام مسجد میں داخل ہونے لگتے تو پہلے اپنے آپ پر اپنے اسم مبارک محمد کے ذکر کے ساتھ ) درود اور سلام بھیجتے۔اور اس کے بعد یہ دعا کرتے۔اللّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ (اے اللہ مجھے بخش۔اور اپنی رحمت کے تمام دروازے مجھے یہ کھول دے۔یعنی ہر رنگ میں مجھے نماز کو کامل طور پر ادا کرنے کی توفیق دے)۔اور جب آپ مسجد سے واپس تشریف لے جانے لگتے۔تو پہلے اپنے آپ پر (اپنے اسم مبارک محمد کے ذکر کے ساتھ ) درود اور سلام بھیجتے۔اور اس کے بعد یہ دعا کرتے۔اللّهُمَّ اغْفِرْلِي وَافْتَحْ لِى أَبْوَابَ فَضْلِكَ (اے اللہ مجھے بخش اور اپنے فضل کے تمام دروازے مجھ پر کھول دے)۔جیسے نماز سے فارغ ہو کر اور مسجد سے باہر جا کر طلب اور تلاش کرنے کا سورۃ جمعہ میں حکم دیا گیا ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت مال اپنی ذات پر درود بھیجتے وقت اپنے لئے ضمیر متکلم استعمال کرنے کی بجائے اپنے اسم مبارک محمد کا ذکر فرمایا کرتے تھے۔اور حقیقت یہ ہے کہ درود شریف کو اس نام کے ساتھ خاص نسبت ہے۔جیسا کہ درود کے الفاظ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔اسی لئے ان تمام احادیث میں جن میں درود شریف کے طریق کی تعلیم دی گئی ہے۔آپ کے اس اسم مبارک کے ساتھ آپ پر درود بھیجنے کا ارشاد ہے۔کیونکہ درود شکر نعمت ہے۔اور حمد کے معنے بھی شکر ۲۲۹ رساله درود شریف کے ہیں۔اس لحاظ سے محمد کے معنے ہیں تمام عالم کے شکریہ کا مستحق۔پس اس مقدس نام کے ساتھ درود شریف کو خاص نسبت اور تعلق ہے۔آپ کا اسم مبارک لکھنے کے وقت - جلاء الافہام میں بحوالہ کتاب ابی الشیخ منقول ہے :۔(۳۶) عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ فِي كِتَابٍ لَّمْ تَزَلٍ المَلَئِكَةُ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ مَادَامَ اسْمِي فِي ذَلِكَ الْكِتَبِ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت میم نے فرمایا۔جو شخص کسی تحریر میں مجھ پر درود بھیجے گا۔اس کے لئے فرشتے اس وقت تک اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگتے رہیں گے۔جب تک میرا نام اس تحریر میں (پڑھا جاتا) رہے گا۔اس حدیث میں صلوٰۃ کی جزاء کا نام استغفار رکھا گیا ہے۔اور بہت سی اور احادیث میں اس کا نام بھی صلوٰۃ ہی رکھا گیا ہے۔پس معلوم ہوا کہ صلوٰۃ کے معنے استغفار کے بھی ہیں وضو کے بعد جلاء الافہام میں بحوالہ کتاب ابی الشیخ مذکور ہے:۔(٤٧) عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنْ طُهُورِهِ فَيَقُلُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا الله وَانَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ لِّيُصَلِّ عَلَيَّ فَإِذَا قَالَ