رسالہ درود شریف — Page 87
رساله درود شریف ۱۵۴۴ ترجمہ۔حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک روز آنحضرت مالم جب صبح کو تشریف لائے۔تو حضور کے چہرہ پر خاص طور پر بشاشت تھی۔صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ آج حضور کے چہرہ انور پر خاص طور پر خوشی کے آثار ہیں فرمایا۔ہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرشتہ نے آکر مجھے کہا ہے کہ تمہاری امت میں سے جو شخص تم پر ایک بار عمدگی سے درود بھیجے گا۔اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ اس کی دس نیکیاں لکھے گا۔اور اس کی دس بدیاں معاف فرمائے گا۔اور اسے دس درجے بلند کرے گا۔اور دیسی ہی رحمت اس پر نازل کرے گا ( جیسی اس نے تمہارے لئے مانگی ہو گی)۔یہ حدیث کسی قدر تغیر الفاظ کے ساتھ اور بھی کئی طریقوں سے مروی۔ہے۔چنانچہ سنن نسائی میں بھی آئی ہے۔اور قریباً قریباً اسی مضمون کی ایک حدیث جلاء الافہام میں بحوالہ کتاب الصلوه علی النبی تصنیف قاضی اللہ اور اسماعیل بن اسحاق حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔اسی طرح ایک حدیث اس بارہ میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے بھی جلاء الافہام میں بحوالہ مسند امام احمد حنبل و مسند عبد الحمید مذکور ہے۔اس حدیث میں درود شریف کے جو برکات بیان ہوئے ہیں۔ان کی طرف خود لفظ صلوۃ کے لغوی معنے بھی رہنمائی کرتے ہیں۔کیونکہ لغت میں اس کے معنے استغفار کے اور مغفرت کے بھی ہیں۔اور اس حدیث میں اس بات کی بھی تعلیم دی گئی ہے کہ آنحضرت مسلم پر درود پوری توجہ اور عقد ہمت سے اور حقیقی محبت اور دلسوزی کے ساتھ بھیجنا چاہئے۔اور یہ کہ محض کثرت شمار کوئی خاص فضیلت کی بات نہیں۔بلکہ اصل فضیلت اس بات میں ۱۵۵ رساله درود شریفه ہے کہ آنحضرت میں پر بہتر سے بہتر طور پر درود بھیجا جائے۔اس بارہ میں اور بھی کئی احادیث آئی ہیں۔درود شریف باطنی پاکیزگی، روحانی ترقی اور اعلی کمالات کے حصول کا ذریعہ ہے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلوتَكُمْ عَلَى زكوة لكُم - (جلاء الافهام بحوالہ کتاب صلو علی النبی میر اسماعیل بن اسحاق) ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت لم نے فرمایا۔مجھ پر درود بھیجا کرو۔تمہارا مجھ پر درود بھیجنا خود تمہاری پاکیزگی اور ترقی کا ذریعہ ہے۔اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ درود شریف ایک طرف تو تمام روحانی آلائشوں سے پاک کرتا ہے۔اور دوسری طرف اعلیٰ سے اعلیٰ کمالات انسانی پر پہنچاتا ہے۔درود شریف کی اس خاصیت کی طرف قرآن کریم میں بھی اشارہ پایا جاتا ہے۔اور وہ اس طرح پر کہ باتها الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلَّمُوا تَسْلِيمًا میں درود شریف کا حکم دے کر آیت مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ امْثَالِهَا من بتایا ہے۔کہ جو شخص آنحضرت میں پر ایک بار درود بھیجے گا اس پر اللہ تعالی دس بار درود بھیجے گا۔اور آیت هُوَ الَّذِي يُصَلِّى عَلَيْكُمْ ومليكه ليُخْرِجَكُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا - تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يُلْقَوْنَهُ سَلَمُ وَأَعَدَّ