رسالہ درود شریف — Page 79
رساله و رود درود شریف میں تمام دعا ئیں آجاتی ہیں (روایت حضرت مفتی محمد صادق (صاحب) ہنوز میں لاہور کے دفتر اکو شنٹ جنرل میں ملازم تھا ۱۸۹۸ء کا یا اس کے قریب کا واقعہ ہے۔کہ میں درود شریف کثرت سے پڑھتا تھا۔اور اس میں بہت لذت اور سرور حاصل کرتا تھا۔انہی ایام میں میں نے ایک حدیث میں پڑھا۔کہ ایک صحابی نے رسول کریم ملی الا اللہ کے حضور میں عرض کیا کہ میری ساری دعائیں درود شریف ہی ہوا کریں گے۔یہ حدیث پڑھ کر مجھے بھی پر زور خواہش پیدا ہوئی کہ میں بھی ایسا ہی کروں۔چنانچہ ایک روز جب کہ میں قادیان آیا ہوا تھا۔اور مسجد مبارک میں حضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضر تھا۔میں نے عرض کیا کہ میری یہ خواہش ہے کہ میں اپنی تمام خواہشوں اور مرادوں کی بجائے اللہ تعالی سے درود شریف ہی کی دعا مانگا کروں۔حضور نے اس پر پسندیدگی کا اظہار فرمایا اور تمام حاضرین سمیت ہاتھ اٹھا کر اسی وقت میرے لئے دعا کی۔تب سے میرا اس پر عمل ہے کہ اپنی تمام خواہشوں کو درود شریف کی دعا میں شامل کر کے اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہوں۔اور یہ قبولیت دعا کا ایک بہت بڑا ذریعہ میرے تجربہ میں آیا ہے۔وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللهِ العَلِيِّ الْعَظِيمِ - محمد صادق ۱۸ اپریل ۱۹۳۳ء " ۱۳۹ رساله درود شریف درود شریف ہی کا ہدیہ آنحضرت میر کو پہنچتا ہے درود شریف صدقہ کی کمی کی تلافی کا ذریعہ ہے "محبی اخویم مفتی محمد صادق صاحب سلمہ اللہ۔السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔میں نے آپ کا خط پڑھا۔میں انشاء اللہ الکریم آپ کے لئے دعا کرونگا۔تایہ حالت بدل جائے۔اور انشاء اللہ دعا قبول ہو گی۔مگر میں آپ کو ابھی صلاح نہیں دیتا۔کہ اس تنخواہ پر آپ دس روپیہ ماہوار بھیجا کریں۔کیونکہ تنخواہ قلیل ہے۔اور اہل وعیال کا حق ہے بلکہ میں آپ کو تاکیدی طور پر اور حکم لکھتا ہوں۔کہ آپ اس وقت تک کہ خدا تعالٰی کوئی با گنجائش اور کافی ترقی بخشے۔یہی تین روپے بھیج دیا کریں۔اگر میرا کانشنس اس کے خلاف کہتا تو میں ایسا ہی لکھتا مگر میرا نور قلب یہی مجھے اجازت دیتا ہے۔کہ آپ اس مقررہ چندہ پر قائم رہیں۔ہاں بجائے زیادت کے درود شریف پڑھا کریں۔کہ وہی ہدیہ ہے جو آنحضرت ان کے پاس پہنچتا ہے۔ممکن ہے کہ اس ہدیہ کے ارسال میں آپ سے سستی ہوئی ہو۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ۱۸ مارچ ۶۹۸" 1۔اس وقت حضرت مفتی صاحب کی تنخواہ (۳۰) روپے ماہوار تھی۔