رسالہ درود شریف — Page 42
رساله درود شریف ура اے خداوندم به خیل انبیاء کش فرستادی به فضل او فرے معرفت ہم وہ چو بخشیدی دلم ے بدہ زاں ساں کہ دادی ساغر اے خداوندم بنام مصطفی کش شدی در هر مقام ناصرے دست من گیر از ره لطف و کرم در مهم باش یار و یاوری تکیه بر زور تو دارم گرچه ہمچو خاکم بلکہ زاں ہم من کمرے ا براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۱۷ تا ۲۳) (۵۴) اے میرے خدا! انبیاء کے گروہ کے طفیل۔جس کو تو نے اپنے بہت بڑے فضل سے بھیجا۔(۵۵) جب تو نے مجھے دل دیا ہے تو اس کو اپنی معرفت بھی دے۔اور جس طرح تو نے پیالہ دیا ہے۔اسی طرح شراب بھی دے (جو اس میں ڈال کر پیئوں)۔(۵۷) اے میرے خدا اس مصطفیٰ کے نام کے طفیل جس کی تو نے ہر مقام میں مدد کی ہے۔(۵۷) اپنے لطف و کرم سے میری دستگیری کر۔اور میری مشکل میں میرا مددگار اور حامی ہو۔(۵۸) مجھے تو تیری ہی طاقت اور زور پر بھروسا ہے ورنہ میں تو مٹی بلکہ اس ت بھی کم ہوں۔۶۵ ايضا در عظمت شان و ہمدردی خلق و برکات اتباع و عشق نبوی ملایم ر ساله درود شریف چون ز من آید تائے سرور عالی تبار عاجز از مدحش زمین و آسمان و هر دو دار اں مقام قرب کو دارد بدلدار قدیم کس نداند شان آن از واصلان کردگار۔آں عنا تها کہ محبوب ازل دارد بدو کس بخوابے ہم ندیده مثل آن اندر دیار سرور خاصان حق شاہ گروه عاشقاں آنکه روحش کرد طے ہر منزل وصل نگار (1) مجھ سے اس عالی خاندان سردار کی تعریف کس طرح ہو سکے۔اس کی تعریف سے تو زمین اور آسمان بلکہ دونوں جہان عاجز ہیں۔(۲) اس کے قرب کے مقام کی شان کو جو وہ خدا تعالی کے پاس رکھتا ہے ، مقربان الہی اور بڑی شان کے لوگوں میں سے بھی کوئی نہیں جانتا۔(۳) وہ مہربانیاں جو محبوب ازل (خدا تعالٰی) کی اس پر ہیں۔دنیا میں اس جیسی مہربانیاں کسی نے خواب میں بھی نہیں دیکھیں۔(۴) وہ خدا تعالیٰ کے خاص بندوں کا سردار ہے اور عاشقان الہی کے گروہ کا بادشاہ۔اس کی روح نے محبوب کے وصل کی ہر منزل کو طے کیا۔