رسالہ درود شریف — Page 168
رساله درود شریف ۳۱۶ HIL رسال و مدح نبوی از حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ دامت برکاتهم السلام اے ہادی راه مرئی جان جہاں والصلوۃ اے خیر مطلق اے شہ کون و مکاں تیرے ملنے سے ملا ہم کو وہ مقصود حیات تجھ کو پاکر ہم نے پایا۔”کام دل آرام جاں آپ چل کر تو نے دکھلا دی رہ وصل حبیب تو نے بتلایا کہ یوں ملتا ہے یار بے نشاں کشادہ آپ کا باب سخا ہے کے لئے زیر احسان کیوں نہ ہوں پھر مردوزن پیرو جواں ނ تشنہ روحیں ہو گئیں سیراب تیرے فیض علم و عرفان خداوندی کے بحر بے کراں ایک ہی زینہ ہے اب بام مراد وصل کا بے ملے تیرے ملے ممکن نہیں وہ دلستان تو وہ آئینہ ہے جس نے منہ جس نے منہ دکھایا یار کا جسم خاکی کو عطا کی روح اے جان جہاں ہے تا قیامت جو رہے تازہ تیری تو ہے روحانی مریضوں کا طبیب جاوداں ہے یہی ماہ میں جس پر زوال آتا نہیں ہے یہی گلشن جسے چھوٹی نہیں باد خزاں کوئی ره نزدیک تر راہ محبت سے نہیں خوب فرمایا نکته مهدی آخر زماں دعا ہے میرا دل ہو اور تیرا پیار ہو میرا سر ہو اور تیرا پاک سنگ آستاں الفاظ درود شریف کے متعلق ایک اور روایت مکرمی چوہدری حاکم علی صاحب نے میرے پاس بیان کیا ہے کہ ایک دفعہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ میں۔درود شریف کن الفاظ میں پڑھا کروں۔جس پر حضور نے مجھے یہ الفاظ ارشاد فرمائے اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلَّمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ۔اور اس وقت سے میں انہی الفاظ میں درود شریف پڑھا کرتا ہوں اور حضرت مولوی غلام رسول صاحب راجیکی نے ذکر کیا کہ جب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کر چکا تو حضور نے مجھے درود اور استغفار کثرت سے پڑھنے کا ارشاد فرمایا۔