رسالہ درود شریف — Page 167
رساله درود شریفه ۳۱۴ میرے دریافت کرنے پر حضرت ام المومنین (رحمۃ اللہ وبرکاتہ علیم) نے مجھے بتایا کہ میں نے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سوال کیا تھا کہ آپ پر درود کن الفاظ میں بھیجا جائے۔جس پر حضور نے یہ الفاظ ارشاد فرمائے تھے صَلَّى اللهُ عَلَى حَبِيْهِ مُحَمَّدٍ وَخُلَفَاءِ مُحَمَّدٍ وَالِهِ وَسَلَّمَ اور میاں محمد اسماعیل صاحب مالیر کوٹلوی مهاجر جلد ساز قادیان (والد میاں عبداللہ صاحب جلد ساز) نے میرے پاس بیان کیا کہ جب میں نے ۱۹۰۲ء میں قادیان میں آکر حضور کے ہاتھ پر بیعت کی۔تو اس کے بعد اسی مجلس میں ایک دوست نے حضور کی خدمت میں یہ سوال پیش کیا کہ حضور پر درود کس طرح بھیجا جائے۔جس پر حضور نے ان الفاظ میں درود بھیجنے کا ارشاد فرمایا اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى حُلَفَاءِ مُحَمَّدٍ وَ بَارِک وَ سَلَّم میاں محمد اسماعیل صاحب نے اس کے ساتھ یہ بھی ذکر کیا کہ اس وقت سے میں انہی الفاظ میں درود شریف پڑھا کرتا ہوں۔نوٹ۔میاں احمد دین صاحب زرگر قادیان نے میرے پاس بیان کیا ہے کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اصحیح اول رضی اللہ عنہ نے ایک مجلس میں فرمایا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنی سچائی کا اور آنحضرت میں یہ کا خلیفہ ہونے کا اس قدر یقین تھا کہ جب ایک شخص نے حضور کی خدمت میں یہ سوال پیش کیا کہ حضور پر درود کس طرح بھیجا جائے تو حضور نے درود کے جو الفاظ بتائے ان میں تصریح سے اپنا ذکر کرنے کی بجائے آنحضرت امی کے خلفاء کا لفظ رکھا۔اور اس کو کافی سمجھا۔اور درود کے یہ الفاظ ارشاد فرمائے اللهُمَّ صَلِّ على مُحَمَّدٍ وَ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَ عَلَى خُلَفَاءِ مُحَمَّدٍ اور فرمایا طور پر ۳۱۵ رساله درود شریف کہ خلفاء کے لفظ میں ہم بھی آجاتے ہیں خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضور کے اس ارشاد سے نہ صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضور کو اپنے آل محمد رسول اللہ اور خلیفہ محمد رسول اللہ مال ہونے پر کامل یقین تھا بلکہ اس سے اس وحی الہی کی بھی عملی پر تفسیر ہوتی ہے کہ قُل أجَرِّدُ نَفْسِي مِنْ ضُرُوبِ الْخِطَابِ (حقیقۃ الوحی- روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۵۹) (۳) حضرت مولوی عبد الستار صاحب مهاجر کابلی رضی اللہ عنہ ( یکے از شاگردان حضرت شاہزادہ مولانا عبد اللطیف صاحب کا بلی شهید رضی اللہ عنہ ) نے میرے پاس بیان کیا کہ مولوی غلام محمد خانصاحب احمدی مهاجر متوطن علاقه خوست (کابل) نے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں اس مضمون کا عریضہ لکھا تھا کہ حضور پر درود کس طرح بھیجا جائے۔جس کا جواب حضور نے اپنے دست مبارک سے تحریر فرما کر بھیجا تھا۔اور اس میں حضور نے آپ پر درود بھیجنے کے لئے یہ الفاظ لکھے تھے۔(یہ روایت الفضل جلد ۲ نمبر میں بھی مختصرا شائع ہو چکی ہے) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ وَعَلَى عَبْدِكَ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ وَبَارِكَ وَسَلّم ( طالب دعا خاکسار محمد اسماعیل عفی عنہ)