رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 162 of 169

رسالہ درود شریف — Page 162

۳۰۵ رساله درود شریف رساله درود شریف م ۳۰ (۴) خدا تیرے سب کام درست کر دے گا۔اور تیری ساری مرادیں اللہ تعالیٰ کے درود بھیجنے کا ذکر ہے ان میں جماعت کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ پر تجھے دے گا۔سَلَامٌ عَلَيْكَ جُعِلتَ مُبَارَكَاتُرجمہ :۔تیرے پر سلام رود بھیجیں۔اور چونکہ درود کی حقیقت اور ماہیت میں حمد اور رفع ذکر بھی داخل ہے اس لئے ایسے کلمات وحی الہی جن میں حضور کے محامد کا اور رفعت تو مبارک کیا گیا (اربعین نمبر ۲ - روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۵۵) (۵) اسلامُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ (ایضاً صفحه ۳۵۵) ابراہیم پر سلام (یعنی اس عاجز پر ") (٢) السَّلَامُ عَلَيْكَ إِنَّا أَنْزَلْنَاكَ بُرْهَانَا وَكَانَ اللَّهُ قَدِيرًا - عَلَيْكَ بَرَكَاتٌ وَ سَلَام سَلَامٌ قَوْلاً مِّنْ رَّبِّ رَّحِيم (ایضاً صفحه ۳۸۰٬۳۷۹) و تم پر سلام۔ہم نے تمہیں برہان کے طور پر نازل کیا ہے اور اللہ کامل قدرتوں والا ہے تم پر برکات اور سلام۔خداوند رحیم فرماتا ہے کہ سلام ( صَلوةُ الْعَرْشِ إِلَى الْفَرْشِ۔یعنی رحمت الہی جو تم پر ہے اس کی کیفیت یہ ہے کہ وہ عرش سے لے کر فرش تک ہے۔فرمایا اس میں کمی اور کیفی مبالغہ ہے گویا اللہ تعالیٰ کی رحمت نے فضا کو بھی بھر دیا۔یہ الہام آئندہ بشارت پر دلالت کرتا ہے یہ لفظی ہی نہیں بلکہ عملی رنگ میں ظاہر ہونے والا ہے اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ جب وہ کسی پر خوش ہوتا ہے تو عملی رنگ میں اس کا اظہار دنیا پر کرتا ہے۔" (بدر جلد ۴ پر چہ یکم جون ۱۹۰۵ء) نوٹ: آیت إِنَّ اللّهَ وَمَليكتَهُ وَيُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلَّمُوا تَسْلِيمًا جاتی ہے کہ جس پر اللہ تعالیٰ درود بھیجے اس پر درود بھیجنا ہر مومن کے لئے ضروری اس شان کا ذکر ہے وہ بھی اس امر کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔واللہ اعلم۔حضرت مسیح موعود کے ارشادات میں آپ پر درود بھیجنے کی تعلیم بعض بے خبر ایک یہ اعتراض بھی میرے پر کرتے ہیں کہ شخص کی جماعت اس پر فقره عَلَيْهِ الصَّلوةُ وَالسَّلَامُ اطلاق کرتے ہیں اور ایسا کرنا حرام ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور دوسروں کا صلوٰۃ یا سلام کہنا تو ایک طرف خود آنحضرت میں نے فرمایا کہ جو شخص اس کو پاوے۔میرا سلام اس کو کہے اور احادیت اور تمام شروع احادیث میں مسیح موعود کی نسبت صدہا جگہ صلوٰۃ اور سلام کا لفظ لکھا ہوا موجود ہے پھر جب کہ میری نسبت نبی علیہ السلام نے یہ لفظ کہا۔صحابہ نے کہا کہ خدا نے کہا۔تو میری جماعت کا میری نسبت یہ فقرہ بولنا کیوں حرام ہو گیا۔(اربعین نمبر ۲۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۴۹) " جس شخص کو تمام نبی ابتدائے دنیا سے آنحضرت میم تک عزت دیتے آئے ہیں اس کو ایک ایسا ذلیل سمجھتے ہیں کہ صلوٰۃ اور سلام بھی اس پر کہنا حرام ہے “ (ایضاً صفحہ ۳۶۷) * عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہے۔پس جن کلمات وحی الہی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر