رسالہ درود شریف — Page 163
رساله درود شریف ٣٠٧٠ رساله درود شریف کہیں تو یقیناً یاد رکھیں کہ اس آخری زمانہ میں مسیح موعود اور اس کے حضرت مولنا عبد الکریم صاحب کے ایک خطبہ جمعہ کا اقتباس متبعین اسی آل میں داخل ہیں۔جس میں آپ نے حضور کی موجودگی میں جماعت کو آپ پر درود بھیجنے کی بہت تاکید کی ہے۔آخر میں اپنی ساری جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ دونوں صورتوں سے درود شریف پڑھنے میں مصروف رہیں۔بہت تھوڑے ہیں جو جانتے ہیں کہ ان کا محبوب و آقا کس نازک کام میں مصروف ہے۔پس سب مسلمان اس وقت آنحضرت میم پر درود بھیجنے کی دو ہی صورتیں ہیں اول یہ اللہ اور اس کے ملائکہ کے ساتھ ہو کر نبی کریم ملی پر درود بھیجیں۔حیف که مسلمان اتباع سنت کریں۔اور تقویٰ و طہارت اختیار کریں۔اور پھر جو ہو گا اگر ہماری جماعت کا کوئی وقت ضائع ہو جاوے۔وہ یاد رکھیں کہ ہمارا آنحضرت مسلم کو زندہ نبی ثابت کرنے کے لئے آیا ہے یعنی مسیح موعود اس محبوب آقا بہت بڑے فکروں میں گھرا ہوا ہے۔دشمنان دین کے حملوں سے کی امداد اور نصرت کے لئے سب اکٹھے ہو جائیں۔اور سب مل کر اس کے وہ اکیلا اسلام کے لئے سینہ سپر ہو کر لڑ رہا ہے۔پس بد نصیب ہو گاوہ شخص جو واسطے دعائیں کریں۔درود شریف پڑھتے وقت جب عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ بقیہ حاشیہ وَسَلَّمَ إِنِّي لَا رَجُوَانُ طَالَ بِى عُمْرَانَ الْقَى عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ فَإِنْ عَجِلٌ بِى مَوْتَ فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْكُمْ فَلْيَقْرَأَهُ مِنِّي السَّلَامَ - جلوک اکنز العمال من ۲ بحوالہ مسلم و حجم الكرامه ص ۴۴۹ بحوالہ مسلم واحمد) (حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت امی نے فرمایا) اگر میری عمر کسی قدر لمبی ہوئی تو میں امید کرتا ہوں کہ میں عیسی بن مریم سے ملوں گا۔اور اگر میری وفات جلد ہو جائے تو اس صورت میں تم میں سے جو اس سے ملے وہ اسے میری طرف سے سلام پہنچائے۔حضرت انس سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مَنْ أَدْرُكَ مِنْكُمْ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ فَلْيَقْرَهُ هُ مِنِّي السَّلَامَ - یعنی تم میں سے جو شخص مسیح موعود کو پائے وہ اسے میری طرف سے سلام پہنچائے۔اس کا بوجھ بٹانے میں شریک نہ ہو۔اور اس کی راہ یہی ہے کہ اپنے چال چلن کو درست کریں۔اور اتباع سنت کی طرف قدم بڑھائیں۔اور درود شریف پڑھتے رہیں۔اب وقت ہے کہ ہر ایک اپنے وقت کی قدر کرے۔اور اسے ضائع نہ کرے۔" (الحکم جلدے نمبر ۸ صفحہ ۷ کالم ۳۴۲) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر درود بھیجنے کا ارشاد از حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) صلی ” میں نے بتایا ہے کہ درود رسول کریم میم کے احسانوں کو یاد کرنا۔اور اپنی احسانمندی کا جتانا اور خدا سے اس کا عوض دینے کی درخواست کرنا ہے۔آنحضرت مال لا السلام کے بعد ہم پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بھی بے شمار احسانات ہیں۔اس لئے درود میں ان کو بھی شامل کرنا چاہئے۔ایک یہی کیا کم احسان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہم پر ہے۔