رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 142 of 169

رسالہ درود شریف — Page 142

ر ساله درود شریف ۲۶۴ ورود میں کما صلیت کہ کر آنحضرت کے لئے کیا مانگا جاتا ہے سوال درود شریف پڑھ کر محمد رسول اللہ میم کے لئے جو کچھ مانگا جاتا ہے وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کم درجہ پر کیوں مانگا جاتا ہے۔جیسا کہ کما صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ سے ظاہر ہوتا ہے ہمارے نبی کریم ملی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آل میں بھی داخل ہیں اور صلوٰۃ بھیجنے والا چاہتا ہے کہ جس قدر برکات اور انعامات الہیہ حضرت ابراہیم اور اس کی اولاد پر ہوئے ہیں۔ان سب کا مجموعہ ہمارے نبی کریم کو عطا ہو۔اس سے یہ تو ثابت نہیں ہو سکتا۔کہ ہمارے نبی کریم ی لا لال اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کمتر درجہ پر ہیں۔بلکہ اس سے تو ان کے اعلیٰ مدارج کا پتہ لگتا ہے آنحضرت کی افضلیت کا ثبوت چونکہ درود شریف پڑھنا ایک نیک کام ہے۔اور یہ ایک حکم ہے کہ جو کوئی نیکی سکھاتا ہے تو اس کو بھی اسی قدر ثواب پہنچتا ہے۔جس قدر کہ سیکھ کر عمل کرنے والے کو۔اس لئے دنیا میں جس قدر لوگ نمازیں پڑھتے ہیں۔اور عبادتیں کرتے ہیں۔ان سب کا ثواب ہمارے نبی کریم کو بھی پہنچتا ہے اور ہر وقت پہنچتا ہے۔کیونکہ زمین گول ہے اگر ایک جگہ فجر ہے تو ۲۶۵ رساله درود شریف دوسری جگہ عشا ہے۔ایک جگہ اگر عشا ہے تو دوسری جگہ شام ہے۔ایسے ہی اگر ایک جگہ ظہر کا وقت ہے تو دوسری جگہ عصر کا وقت ہو گا۔غرض ہر گھڑی اور ہر وقت ہمارے نبی کریم ملی کو ثواب پہنچتا رہتا ہے۔دنیا میں کروڑ در کروڑ رکوع اور سجود کرتے۔اور درود پڑھتے اور دوسری دعائیں مانگتے ہیں۔اور پھر اس کے علاوہ دوسرے احکام پر چلتے، روزے رکھتے زکوتیں ادا کرتے ہیں۔اس لئے ماننا پڑے گا کہ ہر آن میں محمد رسول اللہ م کو بھی ان عبادات کا ثواب پہنچتا رہتا ہے۔کیونکہ اسی نے تو یہ باتیں سکھائی ہیں۔کہ تم لوگ نمازیں پڑھو ، زکو تیں دو اور مجھ پر درود بھیجو۔اور پھر محمد رسول الله الا الا السلام کی اپنی روح جو دعائیں مانگتی ہوگی وہ ان کے علاوہ ہیں۔اب تم سوچ سکتے ہو۔کہ جب سے مسلمان شروع ہوئے اور جب تک رہیں گے ان سب کی عبادتیں ہمارے نبی کریم کے نامہ اعمال میں بھی ہونی چاہئیں۔اس لئے ماننا پڑے گا کہ وہ دنیا کی کل مخلوقات کا سردار ہے کیونکہ اس کے اعمال تمام دنیا سے بڑھے ہوئے ہیں۔کیونکہ جو کوئی مسلمان نیکی کرے گا۔وہ محمد رسول اللہ میں اس کے نامہ اعمال میں ضرور لکھی جائے گی۔اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ تمام رسولوں، نبیوں اور اولیاء کا بھی سردار ہے۔کیونکہ دنیا میں جس قدر رسول گزرے ہیں۔ان کی امتیں ان کے لئے دعائیں نہیں کرتیں۔مگر ہمارے نبی کریم میل کے لئے آپ کی امت دن رات دعائیں مانگتی رہتی ہے۔اور ہمارے نبی کریم ملی کا تمام نبیوں اور تمام مخلوق سے بڑھ کر ہونے کا یہ ایک ثبوت ہے" الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴ پرچه مورخه ۱۴ جنوری ۱۹۰۸ء)