رسالہ درود شریف — Page 133
رساله درود شریف سامنا کرنا پڑا۔زینب آنحضرت امی کی زندگی میں ہی فوت ہو گئیں۔رساله درود شریف رقیہ اور ام کلثوم آنحضرت میں تعلیم کے چا ابو لہب کے دولڑکوں عقبہ اور اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ كَمَا عتیبہ کے عقد میں آئیں۔مگر اسلام کے زمانہ میں جب البولہب نے آنحضرت جَعَلْتَهَا عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ - م کی سخت مخالفت کی۔تو طرفین کی خواہش پر یہ دونوں نکاح فسخ ہو گئے۔اس کے بعد رقیہ اور ام کلثوم یکے بعد دیگرے حضرت عثمان بن عفان اس درود شریف کی ایک روایت حضرت بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اور اس میں وَبَرَكَاتِک کی بجائے وَرَحْمَتِكَ کے نکاح میں آئیں جس کی وجہ سے ان کو ذوالنورین کہتے ہیں۔مگر ان ہے۔اور عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ کی بجائے عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ دونوں کی نسل نہیں چلی۔رقیہ کا جنگ بدر کے زمانے میں اور ام کلثوم کا فتح مکہ کے بعد انتقال ہو گیا۔سب سے چھوٹی صاحبزادی حضرت فاطمہ تھیں۔یہ ہجرت کے بعد حضرت علی کے عقد میں آئیں۔اور انہی کے بطن سے حضرت امام حسن و حسین پیدا ہوئے۔جن کی اولاد مسلمانوں کے اندر سید کہلاتی ہے۔حضرت فاطمہ آنحضرت کی وفات سے چھ ماہ بعد فوت ہو ئیں" اميرة خاتم النبیستین حصہ اول صفحه ۹۲٬۹۱) (۵۸) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُول الله قَدْ عَلِمْنَا السَّلاَمَ عَلَيْكَ فَكَيْفَ نُصَلّى عَلَيْكَ قَالَ قُولُوا اللّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ كَمَا جَعَلْتَها عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ۔(در منثور بحواله ابن مردویه حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ ہم لوگوں نے حضور کی خدمت میں عرض کیا۔یا رسول اللہ۔آپ پر سلام بھیجنے کا طریق تو ہمیں معلوم ہو گیا ہے۔درود آپ پر کس طرح بھیجا جائے۔فرمایا یوں کہا مُحَمَّدٍ ہے۔اور عَلى آلِ إِبْرَاهِيمَ کی بجائے عَلى إِبْرَاهِيمَ ہے اور ایک روایت میں وَرَحْمَتِک بھی ہے۔اور اس کے بعد وَبَرَكَاتِک بھی۔اور باقی الفاظ موخر الذکر ہی ہیں۔اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں وَبَرَكَاتِكَ وَرَحْمَتِكَ ہے۔اور وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ کی بجائے وَ أَزْوَاجِهِ وَ ذُرِّيَّتِهِ وَأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ ہے۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُمْ سَأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ قَالَ قُولُوا اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ وَ بَارَكْتَ عَلَى إبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ (جلاء الافہام بحوالہ محمد بن اسحاق سراج و در منثور بحوالہ عبد بن حمید و نسائی وابن مردویه) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔کہ (ایک دفعہ) بعض صحابہ نے آنحضرت امی کی خدمت میں عرض کیا کہ ہم حضور پر درود کس طرح پر بھیجا کریں۔فرمایا یوں کہا کرو:۔