رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 117 of 169

رسالہ درود شریف — Page 117

رساله درود شریف مهم ۲۱ ۲۱۵ رساله درود شریف مواقع جن میں درود شریف خصوصیت کے ساتھ پڑھنے کا احادیث سے پتہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (نماز میں) خدا کے نبی پر درود نہ بھیجے لگتا ہے حسب ذیل ہیں:۔نماز کا آخری قعدہ جس طرح عام دعاؤں کا اور اذکار الہی کا سب سے اہم اور مقدم موقع اور محل نماز ہے اس طرح درود شریف کا سب سے اہم اور مقدم مقام بھی اس کی کوئی نماز نہیں ہے۔د رود تمام ارکان نماز میں پڑھا جا سکتا ہے اور جس طرح باقی دعائیں نماز کے ہر ایک رکن میں کی جاسکتی ہیں۔اسی طرح آنحضرت مال پر درود بھی ہر ایک رکن میں بھیجا جا سکتا ہے۔اور نماز ہی ہے بلکہ نماز کا اور درود شریف کا تو ایسا گہرا تعلق ہے کہ قرآن کریم کسی رکن میں عام دعائیں کرنے یا درود شریف کے پڑھنے کی کوئی ممانعت میں اور احادیث میں ان دونوں کا نام بھی ایک ہی رکھا گیا ہے۔اور نماز میں نہیں ہے۔ہاں یہ ضروری ہے کہ ہر رکن کے لئے جو اذکار اور دعائیں شریعت نے بتائی ہیں۔ان کو ان کے اپنے اپنے موقع اور محل پر ادا کرنا بہر شریف پڑھنے کی احادیث میں بہت سخت تاکید کی گئی ہے اس جگہ اس درود بارہ میں دو تین حدیثیں درج کی جاتی ہیں:۔(۴۲) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُول اللهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لا تُقْبَلُ صَلوةٌ إِلَّا بِطُهُورٍو بِالصَّلوةِ عَلَى (سنن دار قطنی) ترجمہ:۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔وہ کہتی ہیں میں نے آنحضرت مال سے سنا ہے آپ نے فرمایا جس طرح وضو کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی اسی طرح مجھ پر درود بھیجنے کے بغیر بھی قبول نہیں ہوتی۔ایک اور حدیث میں ہے:۔١٣١ عن سهل بن سعد الساعدي أن النبي صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا صَلوةَ لِمَنْ لَّمْ يُصَلِّ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (ايضا) ترجمہ۔حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت حال مقدم رکھا جائے۔رود شریف کا قعدہ کے ساتھ خاص تعلق اور جس طرح باقی اذکار نماز کا نماز کے مختلف ارکان کے ساتھ خاص تعلق ہے۔اسی طرح درود شریف کا بھی نماز کے ایک خاص رکن کے ساتھ خاص تعلق ہے جو قعدہ ہے۔چنانچہ سنن دار قطنی میں ہے:۔(۳۳) عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَلَّمَنِي رَسُولُ اللهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّشَهدَ كَمَا كَانَ يُعَلِّمُنَا السُّورَة مِنَ الْقُرانِ ترجمہ۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں مجھے حضرت رسول کریم میں نے اسی طرح تشہد سکھایا جس طرح آپ ہمیں قرآن کریم کی کوئی (نئی نازل شدہ) سورۃ پڑھاتے اور سکھاتے