رسالہ درود شریف — Page 115
رساله درود شریف ٢١٠ ار ساله درود چاہئے اور مثال کے طور پر اس کے لئے جمعہ کا دن بتایا ہے۔اور اس میں ترجمہ۔حضرت ابو ہرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت میم آپ پر کثرت سے درود بھیجنے کی تاکید فرمائی ہے۔اور اس کے بعض فضائل نے فرمایا ہے تم اپنے گھروں کو قبریں مت بناؤ۔اور میری قبر کو میلہ کی طرح بھی بیان فرمائے ہیں۔ان فضائل میں جو حضرت آدم کی اس روز وفات ہونے کا ذکر ہے۔یہ اس لئے فضیلت ہے کہ خدا کے کسی برگزیدہ بندہ کی وفات دراصل اس کی ایک نئی پیدائش ہوتی ہے۔اور اس کا اپنے وقت پر دنیا سے جانا بھی درحقیقت ایک رحمت ہی ہوتا ہے۔جیسا کہ سورج کل اپنے وقت پر ڈوبنا ایک رحمت الہی ہوتا ہے۔اور اس فضیلت کا پتہ اس بات سے بھی لگتا ہے کہ آنحضرت کی جس روز وفات ہوئی تھی۔اس دن کو بھی خاص شرف حاصل ہے۔جو دوشنبہ کا مبارک دن ہے۔اسی دن آپ کی پیدائش بھی ہوئی تھی۔اور اس حدیث میں اشراط قیامت کے زمانہ ظہور کا نام جمعہ رکھا گیا ہے جو مسیح موعود کی آمد کا زمانہ ہے جیسا کہ سورہ جمعہ سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔اس میں مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کے لئے یہ تعلیم بھی پائی جاتی ہے کہ اسے خصوصیت کے ساتھ آنحضرت مال پر کثرت سے درود بھیجنا چاہئے۔واللہ اعلم بالصواب گھر میں جاکر آنحضرت ملی یا مسلم پر درود بھیجنے کی تاکید (۳۸) عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لاَ تَجْعَلُوا بُيُوتِكُمْ فَبُورًا وَلاَ تَجْعَلُوا فَجْرِى عِيْدًا وَصَلِّوا عَلَى فَإِنَّ صَلوتِكُمْ تَبْلُغُنِي حَيْتُمَا كُنتُم (جلاء الافہام بحواله جزء حسین بن احمد ) مت بنانا۔اور جہاں بھی تم ہو مجھے پر درود بھیجا کرنا۔تمہارا درود مجھے پہنچایا جائے گا۔یہ حدیث بتاتی ہے کہ جس گھر میں آنحضرت مسلم پر درود نہیں بھیجا جاتا وہ گھر نہیں بلکہ قبرستان ہے، اور اس میں رہنے والے زندہ نہیں، بلکہ مردہ ہیں۔اور اس حدیث میں جو آپ کی قبر کو میلہ گاہ بنانے سے منع کیا گیا ہے۔اسی کے مطابق ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہود اور نصاری پر لعنت کرے۔کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہیں بنا لیا۔یعنی تم ایسا نہ کرنا۔اور اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میری قبر پر نہ آنا۔کیونکہ آپ کی قبر پر جا کر آپ پر درود بھیجنے کی تو بعض احادیث میں تاکید پائی جاتی ہے۔چنانچہ جلاء الافهام صفحہ ۱۷ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت میں نے فرمایا مَنْ صَلَّى عَلَى عِنْدَ قَبْرِي وَكُلَ اللهُ بِهِ مَلَكَ تُسْلِمين وَكَفَى أَمْرَدُنْيَاهُ وَاخِرَتِهِ وَكُنتُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا ترجمہ۔جو شخص میری قبر پر آکر مجھ پر درود بھیجے گا اس کے درود کو مجھے تک پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ فرشتہ کو مقرر کر دے گا۔جو مجھے اس کی طرف سے درود پہنچائے گا۔اور اس شخص کی دنیا اور آخرت کی ضرورتیں اللہ تعالٰی آپ پوری کرے گا۔اور قیامت کے روز میں اس کے حق میں گواہ یا