رسالہ درود شریف — Page 106
رساله درود شریف ۱۹۲ ۱۹۳ ر ساله درود شریف حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس قول سے بھی ہوتی ہے جو اسی طرح لفظ حمید مجید کا ذکر اس دعا کو بہت زور دار بنا رہا ہے کیونکہ دعا کو اسماء الہی کے ذکر سے موکد کرنے کا خود اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے جیسا کہ فرماتا سنن ابن ماجہ میں مذکور ہے:۔ہے وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا۔یعنی سب سے اچھے عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى نام اللہ ہی کے ہیں اس لئے تم ان ناموں کا واسطہ دے کر اس کے حضور رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَحْسِنُوا الصَّلوةَ دعائیں کیا کرو۔اور ان دونوں صفتوں کا اس دعا کے ساتھ خاص تعلق ہے۔عَلَيْهِ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ لَعَلَّ ذَلِكَ يُعْرَضُ عَلَيْهِ قَالَ فَقَالُوا حمد کے ایک معنے شکر کے ہیں۔اور حمید کے معنے اس لحاظ سے شکور کے ہیں لَهُ فَعَلّمُنَا قَالَ قُولُوا اللّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَ رَحْمَتَكَ اور علی العموم شراح نے اس جگہ اس کے یہی معنے بیان کئے ہیں۔اور صلوۃ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ وَ اِمَامِ الْمُتَّقِينَ وَخَاتَم اسی رحمت کا نام ہے جو کسی الہی امتحان میں پاس ہونے کے وقت مومن پر النَّبِيِّينَ مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَ رَسُولِكَ اِمَامِ الْخَيْرِ وَ قَائِدِ الْخَيْرِ وَ رَسُولِ الرَّحْمَةِ اللَّهُمَّ ابْعَثْهُ مَقَامًا مَّحْمُودًا يُغْبِطُهُ بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْأَخِرُونَ ترجمہ۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب آنحضرت امی پر درود بھیجو۔تو بہت اچھی طرح سے بھیجا کرو۔کیونکہ اگر اچھے طور پر بھیجو گے تو امید رکھو۔کہ وہ آپ کو پہنچایا جائے گا (ورنہ وہ آپ کی جناب میں پہنچائے جانے کے قابل نہیں ہوگا)۔راوی ہے کہ اس پر سامعین نے ان سے کہا کہ آپ ہمیں اس کا طریق بتائیں۔انہوں نے کہا یوں کہا کرو۔اے اللہ اپنے تمام رسولوں کے سردار تمام متقیوں کے پیشوا تمام انبیاء کی مہر اپنے بندہ اور اپنے رسول محمد م پر جو ہر ایک نیکی کی بات کے پیشوا ہر ایک نیکی کے کام کے حامل گروہ کے سپہ سالار اور مجسم رحمت بن کر آنے والے رسول ہیں، ہر رنگ میں اپنی جناب سے درود اور اپنی رحمت اور اپنی ہر قسم کی برکات بھیج۔اے اللہ آپ کو اس مقام پر کھڑا کر جسمیں تمام مخلوقات آپ کی مرہون منت شکر یعنی قدر دانی کے طور پر اللہ تعالی کی طرف سے ہوتی ہے۔پس لفظ حمید اس جگہ یہ معنے پیدا کرتا ہے کہ یا الہی آنحضرت میم نے ہماری نجات کی خاطر جو تکلیفیں اٹھائی ہیں اور جو جو قربانیاں کی ہیں ان کا آپ کو بہتر سے بہتر اجر عطا کر۔اور اگر حمد سے مراد ستائش اور تعریف ہو تو بھی اس کا لفظ صلوۃ کے ساتھ تعلق ظاہر ہے کیونکہ صلوۃ کے معنے حسن ثناء کے بھی ہیں۔اور اس صورت میں اس صفت کے ذکر کا مدعا یہ ہو گا کہ اے خدا جو تمام محامد کا مالک ہے آنحضرت امی کی ستائش اور محامد دنیا پر روشن کر اور تمام دنیا کو آپ کا شاء خواں بنا۔اور مجید میں آپ کے لئے اللہ تعالیٰ سے وہ بزرگی اور عظمت مانگی جاتی ہے جو لفظ صلوۃ کے مفہوم میں داخل ہے۔اور اس لحاظ سے اس صفت کے ساتھ اس دعا کا خاص تعلق ہے۔غرض اس حدیث میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ درود شریف سرسری طور پر نہیں پڑھنا چاہئے بلکہ پورے طور پر عقد ہمت کے ساتھ اثر اور تمام تر توجہ اور کوشش کے ساتھ پڑھنا چاہئے۔اس حدیث کے مضمون کی وضاحت کہتا