رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 102 of 169

رسالہ درود شریف — Page 102

رساله درود شریف (جلاء الافہام) (۳۶) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَّمْ يُصَلِّ عَلَى فَلَا دين له (جلاء الافہام بحوالہ محمد بن حمدان مروزی) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت سلم نے فرمایا ہے جو شخص مجھ پر درود نہیں بھیجتا۔اس کا کوئی دین ہی اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے۔کہ دین لفظ پر ستی یا ظاہر پرستی کا نام نہیں ہے بلکہ دین کی اصل حقیقت اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول میر کی سچی محبت ہے۔جس کی طرف اس حدیث نبوی میں بھی اشارہ ہے کہ لا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ اجْمَعِینَ۔کوئی شخص مومن ہو ہی نہیں سکتا۔جب تک اس کے دل میں باپ اور اولاد اور دوسرے سب لوگوں سے بڑھ کر میری محبت نہ ہو۔اور آپ کی محبت کا ایک بہت بڑا نشان اخلاص کے ساتھ اور کثرت سے آپ پر درود بھیجنا ہے۔پس جس شخص کے اندر آپ پر درود بھیجنے کا جذبہ نہیں وہ صاحب ایمان اور دیندار ہی نہیں۔اَللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلَّمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ (۳۷) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَسِيَ الصَّلوةَ عَلَى خَطِئَ طَرِيقَ الْجَنَّةِ (سنن ابن ماجه ) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ۱۸۵ رساله درود درود شریف لم نے فرمایا ہے۔جس شخص نے مجھ پر درود بھیجنا چھوڑا وہ جنت کی راہ کو کھو بیٹھا۔یہ حدیث فضائل و برکات درود شریف کے ذکر میں بھی بیان ہو چکی ہے۔اور اس سے درود شریف کی جس قدر اہمیت معلوم ہوتی ہے۔وہ کچھ محتاج بیان نہیں ہے۔(۳۸) عَنْ قَتَادَةَ (تَابِعِيُّ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَفَاءِ أَنْ أَذْكَرَ عِنْدَ الرَّجُلِ فَلَا يُصَلِّيَ عَلَى (جلاء الافهام بحوالہ سعید بن الاعرابی) حضرت قتادہ سے ( مرسلا) روایت ہے کہ آنحضرت امام نے فرمایا ہے: یہ ایک کج خلقی اور بد اطواری کی بات ہے کہ ایک شخص کے پاس میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔نوٹ۔ان احادیث سے اس بات کی بڑی تاکید پائی جاتی ہے کہ جب بھی آنحضرت م یا اللہ کا ذکر کیا جائے۔تو آپ پر درود بھیجا جائے۔اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے وقت سے لے کر آج تک تمام مسلمانوں کا عمل چلا آتا ہے۔اور اس بات کی کوئی مثال ملنی مشکل ہے کہ کوئی مسلمان کہلانے والا جو کھلم کھلا بے دین نہ ہو آنحضرت میم کے ذکر کے وقت آپ پر الر صلی علیه درود نہ بھیجتا ہو۔اور یہ تعامل ان احادیث کی صحت کا ایک بہت بڑا گواہ ہے۔نوٹ ۲۔ان احادیث کا یہ مطلب نہیں۔کہ اگر کسی موقع پر آنحضرت کے اسم مبارک کا متعدد مرتبہ تکرار کے ساتھ ذکر آئے۔تو ہر بار از سر نو اور فی الفور آپ پر درود بھیجا جائے بلکہ جس طرح سجدہ تلاوت کی کسی