رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 101 of 169

رسالہ درود شریف — Page 101

رساله درود شریف العالم TAP ہے۔اور درود شریف میں یہ دونوں باتیں موجود ہیں۔اس میں حقوق العباد میں سے سب سے مقدم حق کی ادائیگی بھی ہے اور حقوق اللہ کی ادائیگی بھی۔کیونکہ درود میں جو آنحضرت مالی ایم کے رفع درجات کے لئے دعائیں کی جاتی ہیں۔ان میں آپ کی حق شناسی اور شکر گزاری ہے۔اور اس میں جو آپ کے مقاصد کے پورا ہونے کے لئے دعائیں کی جاتی ہیں۔اس میں اللہ تعالی کی حق شناسی ہے۔کیونکہ آنحضرت مال کے مقاصد کا لب لباب الله تعالٰی کی عظمت اور بڑائی چاہنا اور اعلائے کلمتہ اللہ ہی ہے۔نیز درود میں اللہ تعالی کی عبادت بھی ہے۔اور اس سے استعانت بھی۔اور اسی میں اللہ تعالی کی حق شناسی ہے۔پس درود شریف والدین کی خدمت سے محروم رہنے کی صورت میں اس کی تلافی کا ذریعہ بھی ہے۔اور رمضان کی برکات سے محروم رہنے کی حالت میں اس کی تلافی کا ذریعہ بھی۔لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ انسان والدین کی خدمت کرنی چھوڑ بیٹھے۔اور رمضان کا احترام بھی نہ کرے۔اور درود پڑھ چھوڑا کرے۔بلکہ درود تو ان سعادتوں سے اپنی محرومی پر حقیقی ندامت اور افسوس کی حالت میں اس محرومی کے بدنتائج اور وبال سے مخلصی پانے کی ایک راہ ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔(۲۵) عَنْ أَنَسِ ابْنِ مَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَخِيلُ مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ - فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَى مَرَّةً صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عَشْرًا (جلاء الافہام صفحہ ۳۱۸ بحوالہ سنن نسائی) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ام نے فرمایا ہے جس شخص کے پاس میرا ذکر آئے۔اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔وہ IAM رساله درود شریف بڑا بخیل ہے۔کیونکہ جو شخص مجھ پر ایک بار درود بھیجے۔اس پر تو اللہ تعالیٰ دس بار درود بھیجتا ہے (پس اس میں کو تاہی کرنا اپنے آپ سے بخل کرنا ہے)۔یعنی جو شخص مجھ پر جو ماں باپ سے بڑھ کر محسن ہوں درود بھیجنے میں بخل کرتا ہے اس سے بڑھ کر بخیل کوئی نہیں ہو سکتا۔علاوہ اس کے مجھ پر درود بھیجنے میں تو درود بھیجنے والے کا اپنا فائدہ ہے۔کہ اس پر خدا تعالی درود بھیجے گا۔اور بھیجے گا بھی ایک بار کے بدلہ میں کم از کم دس بار۔اور جس پر خدا تعالی درود بھیجے۔اس سے بڑھ کر خوش قسمت کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔پس جس شخص کو خود اپنی بھلائی چاہنے سے بھی دریغ ہو۔اس سے بڑھ کر بخیل کون ہو سکتا ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ درود شریف بہت ہی عظیم الشان عطا کی دعا ہے۔اور آنحضرت می پر درود بھیج کر اس عطا کو حاصل کرنے والا بڑا ہی خوش نصیب ہے اور اس سے محروم رہنا بہت بڑی بدنصیبی ہے۔- اس حدیث کی بعض روایات میں اَلْبَخِيْلُ کی بجائے اَبْخَلُ النَّاسِ آتا ہے جس کے معنے ہیں سب سے بڑا بخیل۔اور ایک روایت میں ہے۔بِحَسْبِ الْمُؤْمِنِ مِنَ الْمُحْلِ أَنْ أَذْكَرَ عِنْدَهُ فَلَا يُصَلَّى عَلَی - یعنی میرا ذکر سن کر مجھ پر درود نہ بھیجنا ایک مومن کے حق میں بہت بڑا بخل ہے۔اور مومن کہلانے والے کا آنحضرت میر کا ذکر آنے کے وقت آپ پر درود نہ بھیجنا نہ صرف دعوی ایمان کے خلاف ہے۔بلکہ خود اپنی بھی پرلے درجہ کی بدخواہی ہے۔اور ایک روایت میں کفی به شحاً آتا ہے۔اور اس کے معنے بھی یہی ہیں۔کہ یہ بہت بڑا بخل ہے۔'