رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 99 of 169

رسالہ درود شریف — Page 99

رساله درود شریف معنے ہیں بد بخت ہوا۔مجروم ہوا۔ناکام ہوا۔اور بعض روایات میں رغم اَنْفُ رَجُلٍ آیا ہے۔جس کے معنے ہیں۔اس کی ناک مٹی سے آلودہ ہو گئی۔یعنی وہ ذلیل اور رسوا ہوا۔اور اس حدیث کی بعض روایات میں یہ بھی مذکور ہے کہ ہر بار مجھے جبریل نے آمین کہنے کے لئے کہا۔جس کی بنا پر میں نے تینوں بار آمین کہا۔نوٹ ۲۔درود شریف کے متعلق اس حدیث سے صرف یہی نہیں ثابت ہوتا۔کہ جب آنحضرت مال کا ذکر آئے۔تو آپ پر درود بھیجنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔اور جو شخص اس وقت آپ پر درود بھیجتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کے گناہ اسی طرح بخش دیتا ہے۔جس طرح والدین کی حقوق شناسی اور خدمت سے یا رمضان شریف کے روزوں سے اور اس کے متعلقہ دیگر مجاہدات و عبادات سے بخشے جاتے ہیں۔اور جو شخص آنحضرت میر کا ذکر آنے پر آپ پر درود بھیجنے میں بخل سے کام لیتا ہے اور اس کی پروا نہیں کرتا۔وہ اپنے لئے خدا تعالیٰ کی جناب سے دوری اپنی ہلاکت، شقاوت و محرومی اور ذلت و رسوائی کا سامان پیدا کرتا ہے۔بلکہ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت میں پر درود بھیجنا خدا تعالیٰ کے قرب کا ہلاکت اور لعنت سے بچنے کا بد بختی محرومی اور ناکامی سے امن پانے کا اور دنیا و آخرت کی ذلتوں اور رسوائیوں سے محفوظ رہنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔خواہ آپ کا ذکر کرنے یا سنے یا پڑھنے کے موقع پر ہو یا اس کے بدوں۔نوٹ ۳۔اس حدیث سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ درود شریف والدین کی حق شناسی اور ان کی خدمت کے برکات اور رمضان کے برکات بھی اپنے اندر رکھتا ہے۔اور اگر کوئی شخص اپنے والدین کی خدمت اور حق شناسی 169 رساله درود شریف سے محروم رہا ہے۔یا وہ سمجھتا ہے کہ مجھ سے اس معاملہ میں کو تاہی ہوئی ہے۔تو اسے چاہئے کہ آنحضرت مال پر نہایت محبت اور اخلاص کے ساتھ کثرت سے درود شریف بھیجے۔اس طرح سے وہ اس سعادت کو حاصل کر سکتا ہے۔جس سے وہ محروم ہو چکا ہے یا اپنے آپ کو محروم پاتا ہے۔اور اگر کوئی شخص رمضان کے برکات سے پورے طور پر فائدہ اٹھانے سے محروم ہے یا وہ سمجھتا ہے کہ میں ان برکات سے اپنے آپ کو محروم کر رہا ہوں یا کر چکا ہوں۔تو اسے بھی چاہئے کہ وہ اس کی تلافی کے لئے آنحضرت می پر کثرت سے درود بھیجے۔اور اس ذریعہ سے ان برکات کو پائے۔(اور کمی درود کی تلافی کا ذریعہ بھی درود ہی ہے)۔والدین کی خدمت اور حق شناسی کا اور درود شریف کا تعلق بہت واضح اور روشن ہے۔قرآن کریم میں تمام مومنوں کو آنحضرت میر کی آل بتایا گیا ہے اور آپ کی ازواج مطہرات کا نام امہات المومنین رکھا گیا ہے۔اور آنحضرت ملا کے اور مومنوں کے باہمی رشتہ کو باپ اور بیٹے کے رشتہ سے نسبت دے کر ساتھ ہی اس نبوی رشتہ کو ابوت و بنوت کے رشتہ سے قوی تر اور قریب تر بیان کیا گیا ہے۔پس درود شریف میں حقیقی باپ کی حق شناسی ہے۔اس لئے وہ والدین کی خدمت کا بدل ہو سکتا ہے۔علاوہ اس کے درود شریف میں اور والدین کی حق شناسی میں ایک یہ بھی مناسبت پائی جاتی ہے کہ درود شریف کی حقیقت شکر گزاری ہے۔اور انسانی تعلقات میں سب سے بڑا تعلق والدین کا ہوتا ہے۔اور والدین کی شکر گزاری اور حق شناسی کی قرآن کریم میں دو صورتیں بتائی گئی ہیں۔ایک یہ کہ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا۔یعنی والدین کے احسانات کو یاد کر کے ان