رسالہ درود شریف — Page 72
رساله درود شریف ۱۲۴ ایک معنوی۔صوری کہ کبھی کلام الہی کو پڑھا ہی نہ جاوے۔جیسے لوگ اکثر مسلمان کہلاتے ہیں مگر وہ قرآن شریف کی عبارت تک سے بالکل غافل ہیں۔اور ایک معنوی کہ تلاوت تو کرتا ہے۔مگر اس کے برکات وانوار و رحمت الہی پر ایمان نہیں ہوتا۔پس دونوں اعراضوں میں سے کوئی اعراض ہو۔اس سے پر ہیز کرنا چاہئے۔امام جعفر کا قول ہے۔واللہ اعلم کہاں تک صحیح ہے۔کہ میں اس قدر کلام الہی پڑھتا ہوں کہ ساتھ ہی الہام الہی شروع ہو جاتا ہے۔مگر بات معقول معلوم ہوتی ہے۔کیونکہ ایک جنس کی شے دوسری شے کو اپنی طرف کشش کرتی ہے۔اب اس زمانہ میں لوگوں نے صد با حاشیہ چڑھائے ہوئے ہیں۔شیعوں نے الگ سنیوں نے الگ۔ایک دفعہ ایک شیعہ نے میرے والد صاحب سے کہا۔کہ میں ایک فقرہ بتلاتا ہوں۔وہ پڑھ لیا کرو۔تو پھر طہارت اور وضو وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔اسلام میں کفر۔بدعت الحاد۔زندقہ وغیرہ اسی طرح سے آئے ہیں۔کہ ایک شخص واحد کی کلام کو اس قدر عظمت دی گئی۔جس قدر کہ کلام الہی کو دی جانی چاہئے تھی۔صحابہ کرام اس لئے احادیث کو قرآن شریف سے کم درجہ پر مانتے تھے۔ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فیصلہ کرنے لگے۔تو ایک بوڑھی عورت نے اٹھ کر کہا۔حدیث میں یہ لکھا ہے۔تو آپ نے فرمایا میں ایک بڑھیا کے لئے کتاب اللہ کو ترک نہیں کر سکتا۔" اخبار البدر جلد ۳ نمبر ۴ صفحه ۲ پرچه ۲۴ جنوری ۶۱۹۰۴ ۱۲۵ رساله درود شریف برکات درود شریف بیان فرمودہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام درود شریف دنیا و آخرت کے محمود ہونے کا ذریعہ ہے (مکتوب بنام چودھری رستم علی صاحب) از طرف خاکسار غلام احمد - به اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ۔بعد سلام مسنون آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔بعض اوقات یہ عاجز بیمار ہو جاتا ہے اس لئے ارسال جواب سے قاصر رہتا ہے۔آپ کے لئے دعا کی ہے۔خدا تعالیٰ دنیا و آخرت محمود کرے۔بعد نماز عشاء درود شریف بہت پڑھیں۔اگر تین سو مرتبہ درود شریف کا ورد مقرر رکھیں تو بہتر ہے۔اور بعد نماز صبح اگر ممکن ہو تو تین سو مرتبہ استغفار کا ورد رکھیں۔والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ ۱۸ ستمبر ۱۸۸۴ء " (مکتوبات جلد ۵ نمبر ۳ صفحه ۳) درود شریف انوار نبویہ کے نزول کا ذریعہ ہے (ماخود از خطبه حضرت مولانا عبد الکریم صاحب سیالکوئی رضی اللہ عنہ ) مورخہ ۲۰ فروری ۱۹۰۳ء) ایک بار میں نے خود حضرت امام علیہ الصلوۃ والسلام سے سنا۔آپ فرماتے تھے۔کہ درود شریف کے طفیل اور اس کی کثرت سے یہ درجے خدا نے مجھے عطا کئے ہیں۔اور فرمایا کہ میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فیوض