رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 71 of 169

رسالہ درود شریف — Page 71

رساله درود شریف بزدلی رکھتا ہے سوانح نبویہ علیہ الصلوۃ والسلام سن کر خوش ہو گا۔اور اپنے اسلام پر افسوس کرے گا اور خدا تعالیٰ سے چاہے گا کہ جس نبی کے اقتدا کا اس کو دعوئی ہے۔اس کی سرگرمی اور اس کا عشق اور اس کی ہمدردی اس کو بھی نصیب ہو۔اور جس طرح ایک شخص جو ایک جنگل میں اکیلا بیٹھا ہو۔اور درندوں اور دوسری بلاؤں سے ڈر رہا ہو۔اور ناگاہ اس کو ایک قافلہ نظر آیا۔جس میں صدہا سپاہی ہیں۔اب دیکھنا چاہئے کہ وہ شخص اس قافلہ کو پاکر کس طرح قوی دل ہو جائے گا۔ایسا ہی سوانح طیبہ نبویہ ایک لشکر مسلح کی مانند ہیں جن کے سننے سے دل قوی ہو جاتا ہے۔اور تخویفات شیطانی نجات ملتی ہے۔اور حدیث صحیح میں ہے کہ عِندَ ذِكْرِ الصَّلِحِينَ تَنَزَّلُ الرَّحْمَةُ یعنی ذکر صالحین کے وقت رحمت الہی نازل ہوتی ہے۔پھر نبی کریم میل کے ذکر کے وقت کس قدر نازل ہو گی۔ہاں اس جلسہ کو بدعات سے محفوظ رکھنا چاہئے۔تا بجائے ثواب کے گناہ پیدا نہ ہو۔صرف سوانح نبویہ کا ذکر ہو۔اور درود شریف اور تسبیح ہو۔اگر کسی قسم کا شرک یا بدعت درمیان ہو۔تو یہ ہرگز جائز نہیں۔لیکن جو میں نے ذکر کیا ہے۔وہ نہ صرف جائز بلکہ میری سمجھ میں ضروریات سے ہے۔" اخبار البدر جلد ۳ نمبر ۲۱۴۲۰ صفحه ۵ پر چه ۲۴ مئی کیم جون ۱۹۰۴ء) دلائل الخیرات و غیره کتب از کار درود شریف کو بطور ورد پڑھنا چاہئے یا نہیں؟ ایک صاحب آمده از امروہہ نے دریافت کیا۔کہ دلائل الخیرات جو ایک کتاب وظیفوں کی ہے۔اگر اسے پڑھا جاوے۔تو کچھ حرج تو نہیں۔کیونکہ ۱۲۳ بر ساله درود شریف اس میں آنحضرت پر درود شریف ہے۔اور اسمیں آنحضرت ہی کی تعریف جابجا ہے۔فرمایا:۔انسان کو چاہئے کہ قرآن شریف کثرت سے پڑھے۔جب اس میں دعا کا مقام آوے تو دعا کرے۔اور خود بھی خدا سے وہی چاہے۔جو اس میں چاہا گیا ہے۔اور جہاں عذاب کا مقام آوے۔تو اس سے پناہ مانگے۔اور ان بد اعمالیوں سے بچے۔جس کے باعث وہ قوم تباہ ہوئی۔بلا مدد وحی کے ایک بالائی منصوبہ جو کتاب اللہ کے ساتھ ملاتا ہے اس شخص کی ایک رائے ہے جو کہ کبھی باطل بھی ہوتی ہے اور ایسی رائے جس کی مخالفت احادیث میں موجود ہو۔وہ محدثات میں داخل ہو گی۔رسوم اور بدعات سے پر ہیز بہتر ہے۔اس سے رفتہ رفتہ شریعت میں تصرف شروع ہو جاتا ہے۔بہتر طریق یہ ہے کہ ایسے وظائف میں جو وقت اس نے صرف کرنا ہے۔وہی قرآن شریف کے تدبر میں لگاوے۔دل کی اگر سختی ہو تو اس کے نرم کرنے کے لئے یہی طریق ہے کہ قرآن شریف کو ہی بار بار پڑھے۔جہاں جہاں دعا ہوتی ہے وہاں مومن کا بھی دل چاہتا ہے کہ یہی رحمت الہی میرے بھی شامل حال ہو۔قرآن شریف کی مثال ایک باغ کی ہے کہ ایک مقام سے انسان کسی قسم کا پھول چتا ہے۔پھر آگے چل کر اور قسم کا چتا ہے۔پس چاہئے کہ ہر ایک مقام کے مناسب حال فائدہ اٹھا دے۔اپنی طرف سے الحاق کی کیا ضرورت ہے۔ورنہ پھر سوال ہو گا کہ تم نے ایک نئی بات کیوں بڑھائی۔خدا کے سوا اور کس کی طاقت ہے کہ کے۔فلاں راہ سے سورہ یسین پڑھو گے تو برکت ہوگی ورنہ نہیں۔قرآن شریف سے اعراض کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ایک صوری اور