رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 47 of 169

رسالہ درود شریف — Page 47

رساله درود شریف دل نمی ترسد بهر تو مرا از موت ہم پایداری ہا میں خوش میروم راغب اندر رحمتت یا رحمت الله آمدیم ایکہ چوں เ تا یائے دار بر در تو صد ہزار امیدوار یا نبی اللہ ثار روئے محبوب تو ام وقف راست کرده ام این سرکه بر دوش است بار تا بمن نور رسول پاک را بنموده اند عشق او در دل همی جوشد چو آب از آبشار آتش عشق از دم من ہچو برقے مے جہد یک طرف اے ہمدمان خام از گرد و جوار (۴۵) تیری محبت میں میرا دل موت سے بھی نہیں ڈرتا۔میری ثابت قدمی دیکھ کہ کس طرح خوش خوش سولی کی طرف جا رہا ہوں۔(۴۶) اے اللہ کی رحمت ہم تیری رحمت کے امیدوار بن کر تیری طرف آئے ہیں۔تو وہ ہے کہ ہم جیسے لاکھوں امیدوار تیرے دروازے پر پڑے ہیں۔(۴۷) اے اللہ کے نبی میں آپ کے پیارے چہرے پر قربان ہوں میں نے اپنا سر جو میرے کندھوں پر ہے تیری راہ میں وقف کر دیا ہے۔(۴۸) جب سے رسول پاک کا نور مجھے دکھلایا گیا ہے۔تب سے میرے دل میں اس کا عشق ایسا جوش مارتا ہے جیسے آبشار کا پانی۔(۴۹) اس کے عشق کی آگ میری سانس سے اسطرح شعلہ مارتی ہے جیسے بجلی۔اے کچے عاشقو! میرے پاس سے ہٹ جاؤ (ایسا نہ ہو کہ جھلسے جاؤ )۔ፈል رساله درود شریف بر سر وجد است دل تا دید روئے او بخواب اے بر آن روئے وسرش جان و سر و رویم نثار صد ہزاراں یوسفے بینم دریں چاہ ذقن واں صحیح ناصری شد از دم او بیشمار و تاجدار هفت کشور آفتاب شرق و غرب بادشاه ملک لمت ملجاء ہر خاکسار کامران آن دل که زد در راه او از صدق گام نیک بخت آں سر که میدارد سر آن شهسوار یا نبی اللہ جہاں تاریک شد از کفر و شرک وقت آں آمد که بنمائی رخ خورشید دار (۵۰) جب سے میرے دل نے خواب میں اس کی شکل دیکھی ہے تب سے وجد کر رہا ہے۔میرا سر اور میری جان اور منہ سب کے سب اس کے سر اور منہ پر قربان ہیں۔(۵۱) میں لاکھوں یوسف اس کے چاہ ذقن میں دیکھ رہا ہوں۔اور لاکھوں اس کے دم سے مسیح ناصری بن گئے۔(۵۲) وہ سات ولایتوں کا تاجدار اور مشرق اور مغرب کا آفتاب ہے۔ملک اور ملت کا بادشاہ ہے۔اور ہر ایک خاکسار کی جائے پناہ۔(۵۳) کامیاب ہے وہ دل جس نے سچائی سے اس کی راہ میں قدم مارا۔خوش نصیب ہے وہ سر جس میں اس شہسوار کا شوق بھرا ہوا ہے۔(۵۴) اے اللہ کے نبی دنیا کفر اور شرک سے تاریک ہو گئی۔اب وقت آگیا ہے کہ آپ سورج سا چمکتا اپنا چہرہ دکھلائیں۔