رسالہ درود شریف — Page 48
رساله درود شریف 64 بینم انوار خدا در روئے تو اے دلبرم عشق روئے تو بینم دل ہر ہوشیار اہل دل فمند قدرت عارفاں دانند حال چشم شیراں پنہاں خور نصف النهار ہر از رو کے دارد سرے با دلیرے اندر جہاں من فدائے روئے تو اے دلستان گل عزار از همه عالم دل اندر روئے خوبت بسته ام بر وجود خوشتن کردم وجودت اختیار زندگانی چیست جاں کردن براه تو فدا رستگاری چیست در بند تو بودن صید دار (۵۵) اے میرے پیارے میں آپ کے منہ پر خدا تعالیٰ کے انوار دیکھ رہا ہوں۔ہر ہوشیار کا دل میں آپ کے عشق میں مست دیکھ رہا ہوں۔(۵۶) آپ کا مرتبہ اور آپ کا حال اہل دل اور عارف ہی جانتے ہیں۔چمگادڑوں کو دوپہر کا سورج نظر نہیں آتا۔(۵۷) دنیا میں ہر کسی کا کوئی نہ کوئی معشوق ہے لیکن اے خوبصورت چہرے والے معشوق میں تو تجھ پر ہی خدا ہوں۔تے (۵۸) سارے جہان سے اپنا دل ہٹا کر میں نے آپ کے ساتھ ہی لگایا ہے۔اور اپنے وجود پر آپ کے وجود کو میں نے مقدم کر لیا ہے۔(۵۹) آپ کی راہ میں جان کو فدا کرنا اصل جینا یہی ہے۔شکار کی طرح تیری قید میں رہنا اصل آزادی یہی ہے۔وجودم بست خواهد بود عشقت در رساله درود دلم تا دلم دوران خون دارد به تو دار و مدار یا رسول الله برویت عهد دارم استوار عشق تو دارم ازاں روزے کہ بودم شیر خوار ہر قدم کاندر جناب حضرت بیچوں زدم معین در رو دیدمت پنہاں و حامی و نصرت شعار عالم نسبتی دارم بتو از بس بزرگ پرورش دادی مرا خود ہیچو طفلی در کنار کفه نمودی شکل خویش یاد کن وقتیکه یاد کن ہم وقت دیگر کامدی مشتاق دار (۲۰) جب تک میرا وجود ہے آپ کا عشق میرے دل میں رہے گا۔جب تک میرے دل میں خون گردش کرتا رہے گا آپ کا ہی عاشق رہے گا۔(۶۱) اے اللہ کے رسول! میں پختہ عہد کے ساتھ آپ کے چہرے کا ندائی ہوں۔میں تو اس دن سے آپ کا عاشق ہوں جب کہ ماں کی گود میں دودھ پیتا تھا۔(۲۲) جو قدم بھی میں نے خدا تعالی کی درگاہ کی طرف اٹھایا ہے۔اس میں میں نے آپ کو پوشیدہ طور پر (اپنا) حامی اور مدد گار پایا ہے۔(۶۳) دونوں جہانوں میں میں آپ کے ساتھ بہت بڑی نسبت رکھتا ہوں آپ نے خود مجھے بچے کی طرح اپنی گود میں پالا ہے۔(۱۴) اس وقت کو یاد کرو جبکہ آپ نے کشف میں مجھے اپنی شکل دکھائی۔اس دو سرے وقت کو بھی یاد کرو جب آپ مشتاق کی طرح میرے پاس آئے۔