رسالہ درود شریف — Page 43
ر ساله درود شریف ۶۶ ان مبارک ہے کہ آمد ذات با آیات او رحمتے زاں ذات عالم پرور و پروردگار آن که دارد قرب خاص اندر جناب پاک حق آن که شان او نه فمند کس ز خاصان و کبار احمد آخر زماں کو اولیس را جائے فخر آخرین را مقتدا و ملجا و کیف و حصار هست درگاه بزرگش کشتی عالم پناہ کس نگردد روز محشر جز پناهش رستگار از همه چیزے فزوں تر در همه نوع کمال آسمانها پیش ادج ہمت او زره وار (۵) وہ مبارک قدم جس کی مجموعہ معجزات ہستی ذات رب العالمین و پروردگار عالم کی طرف سے رحمت بن کر آئی۔(1) جو خدا تعالی کی جناب میں وہ خاص قرب رکھتا ہے۔جس کی شان کو خاص اور بڑے لوگوں میں سے بھی کوئی نہیں جانتا۔(۷) وہ احمد آخر زماں ہے جو پہلوں کے لئے فخر کی جگہ ہے۔اور پچھلوں کا پیشوا جائے پناہ کنف اور قلعہ۔(۸) اس کی عالیشان بارگاہ جہان کو پناہ دینے والی کشتی ہے۔قیامت کے دن کوئی بھی اس کی پناہ کے سوا خلاصی نہیں پائے گا۔(۹) کمال کی ہر ایک قسم میں ہر ایک چیز سے بڑھ کر ہے۔اس کی ہمت کی بلندی کے سامنے (تمام) آسمان ایک ذرہ کے برابر ہیں۔46 رساله درود شریف مظہر نورے کہ پنہاں بود از عهد ازل مطلع تمے کہ بود از ابتداء را استتار صدر بزم آسمان و حجتہ اللہ بر زمیں ذات خالق را نشانے بس بزرگ و استوار تار وجودش خانه یار ازل ہر رگ و ہر دم د هر ذره اش پر از جمال دوستدا حسن روئے او به از صد آفتاب و ماہتاب خاک کوئ او به از صد نافه مشک تار او از عقل و فکر و و هم مردم دور تر کے مجال فکر تا آں بحر ناپیدا کنار (۱۰) وہ اس نور کا مظہر ہے جو ازل سے پوشیدہ تھا۔وہ اس سورج کا مطلع ہے جو ابتدا سے چھپا ہوا تھا۔(11) آسمان والوں کی مجلس کا صدر ہے اور زمین پر خدا کی حجت ہے۔خدا تعالیٰ کی ہستی کا بہت بڑا اور محکم نشان ہے۔(۱۲) اس کے وجود کا ہر ایک رگ وریشہ خدا تعالیٰ کا گھر ہے۔اس کا ہر ایک سانس اور ہر ایک ذرہ محبوب حقیقی کے جمال سے پر ہے۔(۱۳) اس کے چہرہ کا حسن صدہا سورجوں اور چاندوں سے بڑھ کر ہے۔اس کی گلی کی مٹی تاتار کے مشک کے صدہا نانوں سے بہتر ہے۔(۱۴) وہ لوگوں کی عقل فکر اور وہم سے بالا تر ہے۔فکر کی کیا مجال ہے۔کہ اس نا پیدا کنار سمندر تک پہنچ سکے۔