رسالہ درود شریف — Page 32
رساله درود شریف رساله درود شریف مہربانی سے ثابت قدم رہے۔نَهَبَ اللّتَامُ نُشُوبَهُمْ وَعِقَارَهُمْ فَتَهَلَّلُوا بِجَوَاهِرِ الْفُرْقَانِ ادباشوں نے ان کے مال اور جائدادیں لوٹ لیں مگر اس کے عوض فرقان کے موتی پاکر ان کے چہرے چمک اٹھے۔كَسَحُوا بُيُوتَ نُفُوسِهِمْ وَ تَبَادَرُوا لِتَمَتُّع الْإِيْمَانِ وَ الْإِيْمَانِ انہوں نے اپنے نفسوں کے گھروں کو خوب صاف کیا اور یقین اور ایمان کی دولت لینے کو آگے بڑھے۔قَامُوا بِاقْدَامِ الرَّسُولِ بِغَزُوِهِمْ كَالْعَاشِقِ الْمَشْغُوفِ فِي الْمَيْدَانِ رسول کریم کی حملہ آوری کے ساتھ میدان میں لڑائی پر یوں ڈٹ گئے جیسے کوئی عاشق ہوتا ہے۔فَدَمُ الرِّجَالِ لِصِدْقِهِمْ فِي حُبِّهِمْ تحْتَ السُّيُوفِ أَرِيقَ كَالْقُرْبَانِ سو ان پہلوانوں کا خون محبت کی راہ میں ثابت قدمی کی و قربانیوں کی طرح تلواروں کے نیچے بہایا گیا۔جَاءُوكَ مَنْهُوبِيْنَ كَالْعُرْيَانِ فَسَتَرْتَهُمْ بِمَلَاحِفِ الْإِيمَانِ وہ تیرے حضور لوٹے ہوئے اور ننگے آئے جس پر تو نے ایمان کی چادریں ان کو پہنائیں۔دیا۔صَادَفَتَهُمْ قَوْمًا كَرُوبٍ ذِلَّةٌ فَجَعَلْتَهُمْ كَسَبِيكَةِ الْعِقْيَانِ تو نے گوبر کی طرح ان کو ایک ذلیل قوم پایا اور سونے کی ڈلی کی طرح بنا حَتَّى انْتَنى بَرُّ كَمِثْلِ حَدِيقَةٍ عَذْبِ الْمَوَارِدِ مُثْمِرِ الْأَعْصَانِ یہاں تک کہ (عرب کا) جنگل اس باغ کی مانند ہو گیا جس کے چشمے۔شیریں اور درختوں کی شاخیں پھل دار ہوں۔عَادَتْ بِلادُ الْعُرْبِ نَحْوَ نَضَارَةٍ بَعْد الْوَجَى وَالْمَحْلِ وَالْخُسْرَانِ عرب کی زمین ویرانی اور خشکی اور تباہی کے بعد سرسبز ہو گئی۔كَانَ الْحِجَازُ مُغَازَلَ الْغِرُلان فَجَعَلْتَهُمْ فَانِيْنَ فِي الرَّحْمَانِ ملک حجاز زنان آہو چشم کے عشقیہ مذاکروں کا جولانگا بنا ہوا تھا مگر تو نے ان کو رحمان میں فانی بنا دیا۔شَيْئَانٍ كَانَ الْقَوْمُ عُمْيًّا فِيْهِمَا حَشرُ الْعُقَارِ وَ كَثْرَةُ النِّسْوَانِ دو باتیں تھیں جن میں وہ اندھے ہو رہے تھے۔شراب کا پینا اور عورتوں کی کثرت۔أَمَّا النِّسَاءُ فَحُرِّمَتْ إِنْكَاحُهَا زوجًا لَهُ التَّحْرِيمُ فِي الْقُرانِ