رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 31 of 169

رسالہ درود شریف — Page 31

رساله درود شریف وَ تَالّماً مِنْ كَوْعَةِ الْهِجَرَانِ وہ آپ کے جمال کو یاد کر کے مارے شوق کے روتے ہیں اور جدائی کی جلن سے دکھ اٹھا کر چلاتے ہیں)۔و أرَى الْقُلُوبَ لَدَى الْحَنَاجِرِ كُرْبَةٌ وَارَى الْغُرُوبَ تُسِيلُهَا الْعَيْنَانِ میں دیکھتا ہوں کہ دل بیقراری سے گلے تک آگئے ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں۔يَا مَنْ غَدَا فِي نُورِهِ وَ ضِيَائِهِ كَالنَّرَيْنِ وَ نُورَ الْمُلَوَانِ اے وہ جو اپنے نور اور روشنی میں آفتاب و مہتاب کی مانند ہے اور جس سے رات اور دن روشن ہو گئے۔يَا بَدرَنَا يَا أَيَةً الرَّحْمَانِ أهْدَى الْهُدَاةِ وَ أَشْجَعَ الشَّجَعَانِ اے ہمارے بدر اے رحمان کے نشان سب ہادیوں سے بڑھ کر ہادی اور سب بہادروں سے بڑھ کر بہادر۔إني أرى فِي وَجْهِكَ الْمُتَهَتِّلِ شَانَّا تَفُوقُ شَمَائِلَ الْإِنْسَانِ میں تیرے درخشاں چہرہ میں ایک ایسی شان دیکھتا ہوں جو انسانی صفات سے بڑھ کر ہے۔وقَدِ اقْتَفَاكَ أُولُو النُّهَى وَ بِصِدْقِهِمْ وَدَعُوا تَذَكَّرَ مَعْهَدِ الْأَوْطَانِ ۴۳ رساله درود شریف دانشمندوں نے تیری پیروی کی اور اپنے صدق کی وجہ سے مالوف وطنوں کی یاد بھی ترک کر دی۔قَدْ أَثَرُوكَ وَ فَارَقُوْا أَحْبَابَهُمْ وَ تَبَاعَدُوا مِنْ حَلْقَةِ الْإِخْوَانِ انہوں نے تجھے مقدم کر لیا اور اپنے دوستوں کو چھوڑ دیا اور اپنے بھائیوں کے حلقہ سے دور ہو گئے۔قَدْ وَدَّ مُحُوا أَهْوَانَهُمْ وَ نُفُوسَهُم وَ تَبَرَّءُوا مِنْ كُلِّ نَشْبٍ فَانٍ انہوں نے اپنی خواہشوں اور نفسوں کو چھوڑ دیا اور سب طرح کے فانی مالوں سے بیزار ہو گئے۔ظَهَرَتْ عَلَيْهِمْ بَيِّنَاتُ رَسُولِهِمْ فَتَمَزَّقَ الْأَهْوَاء كَالأَوْتَانِ رسول کریم کی کھلی کھلی دلیلیں ان پر ظاہر ہو ئیں اس لئے ان کی نفسانی خواہشیں بھی وہاں کے بتوں کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو گئیں۔فِي وَقْتِ تَرْوِيقِ اللَّيَالِي نُورُوا وَالله نَجَّاهُمْ مِنَ الطُّوفَانِ بچالیا۔وہ راتوں کی تاریکی کے وقت منور ہوئے اور خدا نے ان کو طوفان سے قَدْ هَاضَهُمْ ظُلْمُ الْأَنَاسِ وَضَيْمُهُمْ فتوا بعناية الْمَنَّانٍ لوگوں کے ظلم دستم نے ان کو چور چور کر دیا مگر وہ خدائے منان کی