رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 27 of 169

رسالہ درود شریف — Page 27

ر ساله درود شریف تیار کر رکھا ہے۔سلام ۳ (۳۰) اليس الله يكاي عندَهُ وَيُحَةٍ هُونَكَ بِالَّذِينَ مِنْ دُونِهِ (زمر:۳۷) کیا اللہ اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے اور (اے رسول!) یہ (لوگ) تمہیں ان سے ڈراتے ہیں۔جو اس کے غیر ہیں۔(۳۱) قُلْ لِعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (زمر:۵۴) (اے رسول اپنے بچے پیروؤں سے) کہدو۔کہ اے میری غلامی اختیار کرنے والو۔جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔تم اللہ کی رحمت سے نا امید مت ہو۔اللہ (تمہارے) تمام گناہ بخش دے گا۔وہ بہت ہی بخشنے والا (اور) رحمت پر رحمت کرنے والا ہے۔(۳۲) اِنَّا اَرْسَلْنَكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا لِتُؤْمِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيْلاً - إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ افتح نا) (اے نبی) ہم نے تمہیں (اپنی ہستی کا اور اپنی باتوں کا گواہ اور (رحمتوں کی بشارت دینے اور عذاب سے لوگوں کو آگاہ کرنیوالا بنا کر بھیجا ہے تا کہ ۳۵ رساله درود شریف (اے لوگو) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو۔اور اس کی تعظیم کرو۔اور صبح و شام اس کی (یعنی اللہ کی تسبیح کرو۔جو لوگ تمہارے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں۔وہ اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہوتا ہے۔إِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا (طور) (۳۳) اے رسول تم ہماری حفاظت میں ہو۔(۳۴) وَالنَّجْمِ إِذَا هَوًى مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَى وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيَّ يُوحَى عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى ذُومِرَّةٍ فَاسْتَوَى وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَى ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى (نجم (تام) جب ثریا غروب کی طرف مائل ہو۔تو اس کی قسم (یعنی شہادت جتاتی) ہے۔کہ (یہ) تمہارا رفیق نہ تو کبھی (اعتقادا) گمراہ ہوا ہے۔اور نہ (عملاً) بد راہ ہوا اور نہ ہی وہ نفسانی خواہش کے ماتحت بولتا ہے۔(بلکہ جو کچھ وہ بیان کرتا ہے) وہ محض وحی ہے جو (اس پر) نازل کی جاتی ہے۔اسے زبر دستہ، قوتوں والے (اور) بڑے طاقت والے (معلم حقیقی) نے تعلیم دی ہے۔اس لئے اس نے اس حالت میں اعتدال پایا ہے (یعنی افراط و تفریط سے بالکل پاک ہے وہ سب سے بلند تر مقام پر ہے۔پھر وہ اور بھی قریب ہوا۔پھر وہ جھک گیا۔پھر وہ دو کمانوں کے (اتصال سے پیدا ہونے والے) دائرہ (کے وتر)