رسالہ درود شریف — Page 28
رساله درود شریف ۳۹ کی طرح ہو گیا۔بلکہ اس سے بھی بڑھ کر قریب ( ہو گیا) یعنی مرکزی نقطہ پر پہنچ گیا۔تب اس (معلم حقیقی) نے اپنے اس بندہ پر وحی کے ذریعہ جو نازل کرنا ا چاہا کیا۔جو کچھ (اس کے ) دل کو نظر آیا اس میں کوئی خطا واقع نہیں ہوئی۔(۳۵) ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَأَمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَّحْمَتِهِ وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِه و يَغْفِرُلُكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمُ (حديد اے لوگو جو مومن ہو۔اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔اور کرو۔اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ایسا کرو گے۔تو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی رحمت کا دو ہرا حصہ دے گا۔اور تمہیں ایک خاص نور عطا کرے گا۔جو جدھر جاؤ گے۔تمہارے ساتھ رہے گا۔اور وہ تمہاری تقصیریں بخش دے گا۔اور تمام کمزوریاں دور کر دے گا اور اللہ بہت ہی بخشنے والا اور رحمت پر رحمت کرنے والا ہے۔(۳۶) هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولاً مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أيتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي صَدْلٍ مُّبِينٍ وَأَخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ - ذَلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَا والله ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ وہی ہے جس نے امی لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا ہے۔جو انہیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے۔اور انہیں پاک کرتا ہے اور کتاب اور حکمت کی انہیں تعلیم دیتا ہے اور اس سے پہلے وہ یقیناً کھلی گمراہی میں پڑے إجمعه ۳ تاه) ۳۷ رساله درود شریف ہوئے تھے۔اور کچھ اور لوگوں کو بھی (وہ تعلیم دے گا اور پاک کرے گا) جو انہی میں سے ہوں گے۔وہ ابھی ان سے نہیں ملے۔اور وہ غالب اور حکمت والا ہے۔یہ اللہ کا فضل ہے۔وہ جسے چاہے گا دے گا۔اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (۳۷) قلم: ۱۵۰۲ اور (اے رسول) تمہیں یقیناً ایسا اجر ملے گا جو کبھی بند نہیں ہو گا۔اور تم یقیناً نهایت عظیم الشان اخلاق رکھتے ہو۔(۳۸) لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللهِ يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا (جن : ۲۰) جب اللہ کا بندہ نماز میں کھڑا ہو کر اس کے حضور دعائیں کرتا ہے تو یہ اس پر کود پڑتے اور اس سے آدیختہ ہونے کی حد تک پہنچ جاتے ہیں۔(۳۹) وَالضُّحَى وَالَّيْلِ إِذَا سَجِّي مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْأَوْلى وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضى اضحی (تا) چاشت کے وقت کی اور نیز رات کی جب وہ چھا جاتی ہے قسم (یعنی شهادت بتاتی ہے کہ اے رسول تمہارے رب نے تمہیں چھوڑ نہیں دیا۔اور نہ ہی وہ تجھ سے ناراض ہوا ہے۔اور تمہاری ہر پیچھے آنیوالی گھڑی پہلی