رسالہ درود شریف

by Other Authors

Page 22 of 169

رسالہ درود شریف — Page 22

رساله درود شریف ۲۴ پیوند کر دیا جائے۔اور وہ اللہ سے کوئی بات چھپا نہیں سکتے۔(1) وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ - وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاء ُ وَكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِى أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا - وَلَوْانَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ أَنِ اقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ أَوِ اخْرُجُوا مِنْ دِيَارِكُمْ مَّا فَعَلُوهُ إِلَّا قَلِيلٌ مِّنْهُمْ وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَشَدَّ تَنْبِيْتًا وَإِذَا لَا تَيْنَهُمْ مِنْ لَّدُنَّا أَجْرًا عَظِيمًا وَلَهَدَيْنَهُمْ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا- وَمَنْ تُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالتّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أولَئِكَ رَفِيقًا - ذَلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللهِ وَكَفَى بِاللهِ عَلِيمًا - (النساء:۱۵ تاه) اور ہم نے جو بھی رسول بھیجا ہے وہ اسی لئے بھیجا ہے) کہ اللہ کے اذن سے اسکی فرمانبرداری کی جائے۔اور اگر یہ لوگ ایسا کرتے کہ ) جب ان سے اپنے آپ پر ظلم ہو تا تو (اے رسول) تمہارے پاس آکر اللہ کی بخشش کے طالب ہوتے اور (اللہ کا) یہ رسول ان کیلئے (اللہ تعالیٰ سے بخشش چاہتا تو وہ یقیناً اللہ کو بہت ہی رجوع برحمت کرنے والا اور رحمت پر رحمت کرنے والا پاتے۔پس (اے رسول) تمہارے رب کی قسم ہے۔کہ جب تک یہ ۲۵ (لوگ) ایسا نہیں کریں گے۔کہ ہر اس نزاع میں جو ان میں پیدا ہو۔تم سے فیصلہ کی درخواست کریں پھر جو (بھی) تم فیصلہ کر دو۔اس کے متعلق اپنے سینوں میں کوئی تنگی نہ پائیں۔اور (اسے) پورے طور پر بہت اچھی طرح سے تسلیم کر لیں وہ مومن نہیں بنیں گے۔اور اگر ہم انہیں حکم دیتے۔کہ تم ایک دوسرے کو قتل کرو۔یا اپنے گھروں (اور اپنے وطن) سے چلے جاؤ۔تو ان میں سے چند افراد کے سوا کوئی ایسا نہ کرتا۔اور اگر یہ لوگ اس نصیحت پر چلتے جو انہیں کی جاتی ہے۔تو ان کے حق میں بہتر ہو تا۔اور ان کی ثابت قدمی کا بہت بڑا موجب ہوتا۔اور اس صورت میں ہم انہیں یقیناً بڑا عظیم الشان اجر دیتے اور ایک درست راستے پر انہیں قائم کر دیتے۔اور جو لوگ اللہ کی اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کریں گے۔وہ ان لوگوں میں شامل ہونگے جن پر اللہ تعالیٰ کا خاص انعام ہے۔یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین۔اور یہ بہت ہی اچھے رفیق ہیں۔یہ اللہ کا بہت بڑا فضل ہے۔اور اللہ جاننے والا کافی ہے۔(<) وَكَانَ فَضْلُ اللّهِ عَلَيْكَ عَظِيما النساء (اے رسول) تم پر اللہ کا بہت ہی بڑا فضل ہے۔(۸) يَاهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَ كُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَبِ وَيَعْفُوا عَنْ كَثِيرٍ قَدْ جَاءَ كُمْ من الله تورو كتب مُّبِينَ يَهْدِي بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلمِ وَيُخْرِجَهُمْ مِنَ الظُّلمتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ