رسالہ درود شریف — Page 19
19 رساله درود ل مضمون یہ مضمون محض تمہیدی نہیں بلکہ دراصل اس رسالہ کے نفس کا ایک حصہ ہے کیونکہ صلوۃ کے معنے دعا کے علاوہ مدح و ثنا اور اظہار عظمت کے بھی ہیں۔پس آیت اِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النّبِيِّ يَاتُهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا میں ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے حق میں دعائیں کرنے کا ہی حکم نہیں دیا گیا بلکہ آپ کے محامد بیان کرنے اور آپ کی عظمت شان کے اظہار کا بھی حکم دیا گیا ہے۔علاوہ اس کے یہ حکم ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے احسانات کی شکر گزاری کے لئے دیا گیا ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔" آپ کے اعمال خدا کی نگاہ میں اس قدر پسندیدہ تھے کہ اللہ تعالی نے ہمیشہ کے لئے یہ حکم دیا کہ آئندہ لوگ شکر گزاری کے طور پر ( آپ پر درود بھیجیں" (اخبار الحکم جلدے نمبر ۱۵ صفحه ۲) 1 - لفظ صلوٰۃ کے معنے کتب لغت میں حسب ذیل لکھتے ہیں:۔(1) حسن مثالیعنی بہترین تعریف (۲) رحمت (۳) مسلسل طور پر رحمت کرتے چلے جانا (۴) دعا (۵) استغفار (۶) خیر و برکت کے لئے دعا کرنا (۷) تسبیح (۸) تعظیم و تکریم (۹) برکت بخشا (۱۰) برکت چاہنا (11) لزوم اور دوام (۱۲) اول رہنا (۱۳) گھڑ دوڑ وغیرہ میں دوم نمبر پر رہنا (۱۴) بهترین جانشین کا بلا فصل اور بلا توقف قائم ہو جانا (لفظی معنے بعد میں آنے والے فرد کا ایسے طور پر بلا فصل ساتھ ہی آپہنچنا کہ گویا پہلے فرد کے ساتھ دوسرا فرد ٹکرا رہا ہے) (۱۵) نماز (۱۷) معبد یعنی عبادت گاہ۔منہ